تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
25 اگست 2015
وقت اشاعت: 6:4

ملا عمر کے مارے جانے کی خبر جھوٹ ہے، افغان طالبان

جیو نیوز - کابل........افغان طالبان نے ملاعمرکی ہلاکت کی خبرکوجھوٹ کا پلندہ اورافواہ قراردیا ہے اورکہا ہے کہ ان کی جانب سے اسلام آباد کے مذاکرات میں حصہ لینے سے انکارکے بعد ان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا گیا ہے۔ پشتوزبان میں جاری اس بیان میں کہا گیا ہے کہ جب طالبان نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ نہ لیااوریہ مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تواسلام آباد اورکابل میں موجود ان کے دشمنوں نے ان کے خلاف زبانیں کھول لیں اوران کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے ان میں گروپ بندیوں اوراب ملاعمرکے مارے جانے کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں جبکہ یہی عمل طیب آغا کے استعفے کی افواہ پھیلا کربھی کیا گیا ہے۔ اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر مارے جا چکے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان حکومت اور انٹیلی جینس ذرائع کے مطابق کئی برسوں سے مسلسل روپوشی کی زندگی گزارنے والے ملا عمر دو یا تین برس پہلے ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملا عمر کی موت کی اطلاع افغان انٹیلی جینس نے صدر اشرف غنی کو دی،تاہم صدارتی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت اطلاعات کی تحقیق کررہی ہے، صورت حال واضح ہونے پر ہی کوئی بات وثوق سے کہی جاسکے گی۔ دوسری جانب امریکی ریڈیو کا کہنا ہے کہ طالبان کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ملا عمر کی موت کی تردید کی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملا عمر زندہ ہیں اور ان کی موت کی افواہوں کا مقصد انہیں منظر عام پر آنے پر مجبور کرنا ہے۔ ملا عمر کی موت کی خبر ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور دو روز بعد متوقع ہے۔ملا عمر 2001ء میں امریکی جنگ شروع ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔ البتہ ان کی خراب صحت اور موت کی خبریں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.