تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
25 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 6:19

انگلیریا سمیت پانی سے ہونے والی بیماریوں کی ذمہ دار واٹر بورڈ ہوگی،امداد صدیقی

کراچی …شبانہ شفیق …ای ڈی او ہیلتھ کراچی امداد الله صدیقی نے کہاہے کہ اگر شہر میں انگلیریا سمیت پانی سے ہونے والی کوئی بھی بیماری پھیلتی ہے تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف واٹربورڈ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ انگلیریاوائرس سے ہونے والی اموات (واضح رہے کہ انگلیریا وائرس سے دنیا بھر میں اموات کے کیسز شادونادر ہی منظر عام پر آتے ہیں لیکن اس سال کراچی میں انگلیریا سے ہونے والی 10 اموات خاص طور پر اکتوبر کے مہینے میں ایک ہی ہفتے میں 3 اموات نے ماہرین صحت سمیت تمام سماجی طبقوں کوتشویش میں مبتلا کردیا، تحقیق کے مطابق انگلیریا نیم گرم پانی میں زندہ رہنے والا چھوٹا جراثیم ہے جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ اس وائرس اور جراثیم کو اسی لیے طفیلی (امیبا) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جراثیم ناک کے ذریعے انسانی دماغ میں پہنچ کردماغ کے ٹشو چاٹ یا کھا جاتا ہے اور یہ عمل اتنی تیزی سے کرتا ہے کہ 3 سے 5 دن میں انسان (جبکہ اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ آتی ہے)مرجاتا ہے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے کی علامات گردن توڑ بخار سے ملتی جلتی ہیں) کی صرف ایک ہی وجہ ہے۔ یعنی پانی میں کلورین کی آمیزش نہیں کی جارہی ہے، واضح رہے کہ پانی میں کلورین کی آمیزش (عالمی ادارہ صحت کے مطابق PPM 0.5 ہونی چاہیئے) ہی انگلیریا وائرس سے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں اب تک نہ تو اس وائرس کے حوالے سے کوئی ویکسین ابھی تک ایجاد ہوئی ہے اور نہ ہی اس وائرس کی فوری تشخیص کا کوئی طریقہ ایجاد ہوا ہے۔ ای ڈی او، ہیلتھ ڈاکٹر امداد الله صدیقی کاکہنا ہے کہ انگلیریا سے متعلق ہونے والی اجلاس جس میں واٹربورڈ کے اعلی ترین عہدے دار ، محکمہ صحت کے اعلی عہدے دار، صوبائی اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی اور جس کی سربراہی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کی تھی، میں یہ طے پایا تھا کہ واٹربورڈ اور صوبائی محکمہ صحت گھروں میں سپلائی کرنے والے پانی کے نمونے حاصل کرکے اس کی رپورٹ میڈیا کو جاری کرے گا صوبائی وزیر صحت کی ہدایت پر ہم نے شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کی مرکزی پائپ لائنوں اور گھروں سے نمونے حاصل کرکے کے ایم سی کی لیبارٹری میں تجزیے کے بعد رپورٹس، (جن میں 99فیصد رپورٹ منفی تھیں یعنی اس پانی میں کلورین شامل نہیں تھی)میڈیا کو جاری کرنا شروع کردیں۔ جس پر واٹربورڈ کے ایم ڈی نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بیان دیاکہ محکمہ صحت ان کے خلاف سازش کررہاہے، ان کے بیانات سے 2 اداروں کے درمیان محاذ آرائی کا تاثر پیدا ہوگیا۔ چنانچہ صوبائی وزیر صحت نے ہدایات جاری کیں کہ محکمہ صحت ٹیمیں واٹربورڈ کے عملے کے ساتھ مل کر پانی کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں تجزیہ کروائیں گی اور ان کی رپورٹ روز کی بنیاد پر میڈیا کو جاری کی جائے گی لیکن واٹربورڈ نے ان ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے ، محض یہ بیانات دینے شروع کردیئے ، پانی کے تمام نمونے مثبت ہیں۔ ڈاکٹر امدادالله صدیقی کا کہنا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ واٹربورڈ کے ایم ڈی مصباح الدین فرید غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی میں کلورین ڈالی ہی نہیں جارہی ہے۔ اوراگر ڈالی جارہی ہے توہ وہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ انگلیریا ایک بار پھر منظرعام پر آسکتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.