31 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 6:20
خورشید انوراوریجنل دھنیں بنانے والے منفرد موسیقار تھے
جیو نیوز - کراچی......مشتاق احمد سبحانی......خواجہ خورشید انور برّصغیر ہندوپاک کے اْن چند عظیم موسیقاروں میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں جو فلموں میں اوریجنل اور منفرد دْھنیں تخلیق کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔اْنہوں نے ہندوستان اور پھر پاکستان میں فلمی اور کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی پر اپنی کارکردگی کے گہرے نقوش چھوڑے۔
خورشید انور صرف موسیقار ہی نہیں تھے، فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی نویس بھی تھے۔عظیم شاعر فیض احمد فیض سے ان کی تاحیات دوستی تھی اور فیض صاحب ان کے علم اور فن سے بے حد متاثر تھے۔
خورشید انور21 مارچ1912 کو میانوالی میں پیدا ہوئے۔1934میں خان صاحب توکل حسین سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی۔1935 میں پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں ماسٹرز کیااور پہلی پوزیشن حاصل کی۔پھر انہوں نے انڈین سول سروس کا امتحان دیا مگر برطانوی راج کے خلاف باغیانہ خیالات کے باعث منتخب نہ ہوسکے۔
1939 میں خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی میں موسیقی کے پروگرام پروڈیوسرکی ملازمت اختیار کی۔1941 میں اْس زمانے کے ایک معروف ہدایت کار اے آر کاردار کے بلانے پر بمبئی جاکر فلموں میں موسیقی دینے لگے۔سب سے پہلے ایک پنجابی فلم ”کْڑمائی“کا میوزک دیا۔
پھر1943 میں اردو فلم ”اشارہ“ کی موسیقی ترتیب دی جس کے گانے بیحد مقبول ہوئے۔انہوں نے ہندوستان میں 1952 تک دس فلموں میں موسیقی دی۔1949 میں ریلیز ہونے والی فلم ”سنگھار“کی موسیقی پر انہیں بہترین موسیقار کاایوارڈ دیا گیا۔
1952 میں خورشید انورپاکستان آگئے اور یہاں زیادہ کامیاب رہے۔پہلی ہی فلم ”انتظار“ نے تو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی قیامت ڈھادی۔اس فلم کے تمام گانے سپر ہٹ تھے جو آج بھی بے حد مقبول ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں 18فلموں میں موسیقی دی۔ ان میں ”مرزاصاحباں، زہر عشق، جھومر ، کوئل، ایاز، گھونگھٹ ، چنگاری،حویلی، ’سرحد، گڈو (پنجابی) ہیررانجھا، پرائی ، سلام محبت، شیریں فرہاد، حیدر علی، مرزا جٹ، شامل ہیں۔
انہوں نے فلم’انتظار‘، ’ زہر عشق‘، ’جْھومر‘ ،’گھونگھٹ‘ اور’چِنگاری ‘ کی کہانیاں اور اسکرین پلے لکھے جبکہ ’ہمراز‘کی کہانی اور اسکرین پلے کے علاوہ مکالمے بھی تحریر کئے۔ وہ ان کے فلم سازبھی تھے جبکہ ’گھونگھٹ‘ ، ’چِنگاری ‘ اور ’ہمراز‘کی ہدایات بھی دیں۔
فلموں میں موسیقی دینے کے علاوہ خورشید انورکا سب سے بڑا کارنامہ کلاسیکی موسیقی کے خزینوں کو محفوظ کرنا تھا۔ انہوں نے1978 میں’ آہنگِ خسروی‘کے نام سے ان ریکارڈز کو دو حصوں میں جاری کیا۔پہلا حصہ ’راگ مالا‘دس آڈیو کیسٹس پر مشتمل تھاجن میں دس ٹھاٹھ میں90راگ شامل تھے۔
دوسرا حصہ ’گھرانوں کی گائیکی‘بیس آڈیو کیسٹس پر مشتمل تھا جس میں پاکستان میں کلاسیکی گلو کاروں کے اہم گھرانوں کا تعارف پیش کیا گیا۔ان کے علاوہ خورشید انور نے موسیقی کی تاریخ پر کتاب بھی لکھی۔
حکومتِ پاکستان نے موسیقی کے لئے خواجہ صاحب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں 1980 میں ستارہ امتیاز سے نوازا اور بالی وڈکی فلمی صنعت نے 1982 میں انہیں ’فانی افراد، لافانی نغمات ایوارڈ پیش کیا۔
خورشید انور طویل علا لت کے بعد 30 اکتوبر1984ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انہوں نے اپنے 41 سالہ فلمی کیرئیر کے دوران صرف 28 فلموں کی موسیقی ترتیب دی مگر ان کی تمام فلمیں موسیقی کے لحاظ سے شاہکار ثابت ہوئیں۔ ان کے شاگردوں میں بھارت کے معروف موسیقار روشن کے علاوہ شنکر بھی تھے جنہوں نے جیکشن کے ساتھ ایک کامیاب جوڑی بنائی۔ عظیم موسیقار نوشاد علی نے خورشید انور کو برصغیرکے بہترین فلمی موسیقاروں میں سے ایک قرار دیا۔