23 نومبر 2015
وقت اشاعت: 8:21
وحید مراد ، فلمی تاریخ کے سب سے دلکش ہیرو
جیو نیوز - کراچی......مشتاق احمد سبحانی......وحید مرادنہ صرف پاکستان بلکہ بر ّصغیر کے سب سے دلکش رومانی ہیرو کہے جاتے تھے۔ انہیں جاذب نظر شخصیت، خوبصورت ہیئراسٹائل ، خوش لباسی اورفطری اداکارانہ صلاحیتوں کے باعث’ چاکلیٹی ہیرو‘ کہا جاتا تھا اور یہ اصطلاح پہلی مرتبہ اْنہی کے لئے استعمال کی گئی۔وہ اپنے دور کی نو جوان نسل میں بیحد مقبول تھے۔
دواکتوبر 1938 کو کراچی میں پیدا ہونے والے وحید مراد نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ ان کے والد نثار مراد ملک کے معروف فلم ڈسٹری بیوٹر تھے۔ ان کے ساتھ رہ کر وحید کو بھی فلموں کے بارے میں خاصی معلومات ہو چکی تھیں لہذا انہوں نے فلم سازی کا فیصلہ کیااور پہلی فلم ”انسان بدلتا ہے“کے نام سے بنائی جو 1961 میں نمائش پذیر ہوئی۔
اس سے اگلے سال ان کی دوسری فلم”جب سے دیکھا ہے تمہیں“ ریلیز ہوئی۔اسی سال ہدایت کار ایس ایم یوسف نے انہیں اپنی فلم ”اولاد“ میں ایک معاون کردار میں پیش کیا۔اسی دوران اداکار سنتوش کمار اور ان کی اداکارہ بیگم صبیحہ خانم کی خواہش پران کی ذاتی فلم ”دامن“ میں بھی انہوں نے معاون کردار ادا کیا۔
ان دونوں فلموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا تو وحید نے اپنی تیسری ذاتی فلم ”ہیرا اور پتھر “ میں خود ہیرو آنے کا فیصلہ کیا۔اس فلم میں ان کی ہیروئن زیبا تھیں۔ سن 1964میں ریلیز ہونے والی یہ فلم بے حد کامیاب ہوئی۔وحید نے فلم ساز اور اداکار دونوں حیثیتوں میں خود کو منوایا۔ انہیں اس فلم میں بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔
اب وحید مراد فلموں میں باقاعدگی سے بطور ہیرو کام کرنے لگے۔ 1965 میں وہ زیبا اور محمد علی کے ہمراہ فلم ”کنیز“میں آئے۔ یہ فلم بھی سپر ہٹ ہوئی۔اب انہوں نے فلم ساز کی حیثیت سے ”ارمان“ بنائی۔ اس کی کہانی بھی انہی کی تحریر کردہ تھی۔ اس فلم میں بھی وہ زیبا کے ساتھ ہیرو تھے۔یہ نہایت کامیاب فلم تھی۔ اس سے قبل وحید کی بحیثیت اداکارچار فلموں نے گولڈن جوبلی منائی تھی مگر”ارمان“کو پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم ہونے کا اعزاز ملا۔اس فلم نے 1966 کی بہترین فلم کے علاوہ بہترین ہدایت کار ، موسیقار ، اداکارہ اور مزاحیہ اداکار کے نگار ایوارڈ ز بھی حاصل کئے۔
اس سال وحید کی بحیثیت اداکار چارفلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ”جوش“، ”جاگ اْٹھا انسان“ اور ”بھیّا“ کامیاب رہیں۔اگلے سال ان کی سات فلمیں نمائش کے لئے پیش ہوئیں اور سبھی کامیاب رہیں۔ان کے نام ”دیور بھابی“، ”احسان“ ،”دو راہا“، ”پھر صبح ہوگی“، ”ماں باپ“، ”رشتہ ہے پیار کا“ اور ”انسانیت“تھے۔”احسان“ اور”دو راہا“کے فلم ساز بھی وحید ہی تھے۔
اب وحید کا نام فلموں کی کامیابی کی ضمانت بن چکا تھا۔ ان فلموں میں ”دل میرا دھڑکن تیری “، ”سمندر“ ، ”جہاں تم وہاں ہم“، ”سالگرہ“، ”عندلیب“،”اشارہ“، ”لاڈلا“، ”اِک نگینہ“ وغیرہ شامل ہیں۔
”اشارہ“ان کی ذاتی فلم تھی۔”عندلیب“میں انہیں بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ ملا۔ 1970 میں فلم ”انجمن “ نے دھوم مچادی۔ یہ ان کی دوسری پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔اسی سال ان کی دیگر فلمیں ”افسانہ“، ”بے وفا“، ”چاند سورج“اور ”نصیب اپنا اپنا“بھی کامیاب ہوئیں۔الغرض وحید مراد کی کامیاب فلموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔انہوں نے تقریباًً سوا سو فلموں میں کام کیا۔
ان میں آٹھ پنجابی اور ایک پشتو فلم شامل ہے۔انہیں پنجابی فلم ”مستانہ ماہی“ میں بھی بہترین اداکا ر کا نگار ایوارڈ ملا۔اس کے فلم ساز بھی وہی تھے۔ وحید نے فلم ساز کی حیثیت سے گیارہ فلمیں بنائیں۔انہوں نے ایک فلم ”اِشارہ“کی ہدایات بھی دیں جو کامیاب نہ ہوسکی۔انہوں نے اس فلم کا ایک گانا بھی گایاتھا۔
وحیدکا فلمی کیرئیر زیادہ عرصے تک جاری نہ رکھ سکا۔ وہ صرف 45سال کی عمر میں 23نومبر 1983 کو کراچی میں پْر اسرا ر حالت میں انتقال کرگئے۔ان کی تدفین لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں اپنے والد کی قبر کے نزدیک کی گئی۔وحید کی آخری فلم ”ہیرو“ تھی جوان کے انتقال کے دو سال بعد 1985 میں نمائش پذیر ہوئی۔
وحید مراد کو چار نگار ایوارڈز کے علاوہ کئی اور ایوارڈز اور اعزازات بھی دئیے گئے۔ انہیں انتقال کے بعد 2002 میں ’نگار‘ کی جانب سے ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔
2010 میں حکومت پاکستان نے فلمی صنعت کے لئے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از مرگ ’ستارہ امتیاز‘دیا گیا۔