5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
امریکا نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . . . امریکا نے دنیا بھر میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے والے اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا ۔ وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے نیٹو سربراہAnders Fogh Rasmussen کے ایک اسٹاف ممبر اپنا جاسوس بنارکھا تھا جو مسلسل خبریں پہنچاتا رہا۔ دس ستمبر دو ہزار نو کو برسلز سے جاری کیے گئے مراسلے سے انکشاف ہوا ہے کہ نیٹو سربراہ راس موسن کا ایک اسٹاف ممبر امریکا کیلئے جاسوسی کررہا ہے۔ مبینہ جاسوس نیٹو سربراہ کے اقدامات کی پہلے سے واشنگٹن کو اطلاع دیدیتا ہے جس سے امریکی انتظامیہ کو آنیوالے دنوں میں ان اقدامات سے نمٹنے میں مدد ملتی تھی ۔ دو ہزار نو کے آخر میں امریکا نے نیٹو کو خبردار کیا کہ وہ کلیکٹیو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون بڑھانے سے باز رہے، اس آرگنائزیشن میں روس سمیت بعض سابق سویت ریاستیں بھی شامل ہیں ۔ پندرہ ستمبر دو ہزار نو کو امریکی دفتر خارجہ سے نیٹو سربراہ کو بھیجے گئے نوٹ میں خبردار کیا گیا کہ امریکا اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر روس اور نیٹو کے درمیان نئے اقدامات کا اعلان نہ کرے ۔ چھ جنوری دو ہزار دس کی ایک تحریر بھی وکی لیکس کو ہاتھ لگی جس میں نیٹو سربراہ راس موسن کے دسمبر دو ہزار نو میں ماسکو دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس میں برسلز میں امریکی سفیر کوراس موسن کے اسٹاف ممبر نے بتایا کہ ان کی روسی قیادت سے ملاقات ویسی نہیں جیسیراس موسن نے میڈیا کو بتائی، بلکہ صدر ڈمٹری میڈویڈیف اور وزیر اعظم ویلادیمر پیوٹن نے نیٹو کیساتھ حقیقی تعاون کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جبکہنیٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ روسی قیادت کی جانب سے نیٹو کیساتھ تعاون کے عزم پر خوش ہیں ۔ امریکی جاسوس نے بتایا کہ ویلادی میر پیوٹن نے راس موسن سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ نیٹو کا کوئی مقصد ، کوئی منزل نہیں لہذا یہ روس کے مفاد میں ہوگا کہ نیٹو کو ختم کردیا جائے ۔ نیٹو سربراہ کی امریکا کیلئے مبینہ جاسوسی کرنے والے اسٹاف ممبر نے ایک اور موقع پر یہ اطلاع بھی دی کہ راس موسن مشرق وسطیٰ امن عمل سے متعلق ابو ظہبی کانفرنس میں اپنا کوئی منصوبہ پیش کرنے کا عزم نہیں رکھتے ۔