5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
معاف شدہ قرضوں کا پیسہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…اسٹیٹ بینک نے سپریم کورٹ کو بتایاہے کہ پچھلے دوسالوں میں 74ارب روپے کے قرض معاف کئے گئے۔عدالت نے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی دوشخصیات کے کاروباری اداروں ریڈکو اور انڈس شوگر ملز سے معاف قرض کی واپسی کو ٹیسٹ کیس قراردیاہے۔چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے قرض معافی کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو بلاکرپوچھیں گے کہ معاف قرض کی واپسی کیلئے قانونی سازی یا کیا اقدام کئے جارہے ہیں ،ایسے قرض کا پیسہ ملک کے بچوں کی فلاح پر خرچ ہونا ہے یہ رقم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ اسٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر نے بتایا کہ قرض قانونی طور پر معاف کئے گئے، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیئے کہ کوئی کیس بتادیں کہ جس میں قرض معافی ”غیرقانونی “ طور پر ہوئی ہو۔اقبال حیدر نے کہا کہ انڈس شوگرملز اور ریڈکو کے قرض غلط طریقے سے معاف کئے گئے، جسٹس رمدے نے کہا کہ ان دونوں قرض کیسز میں اسٹیٹ بینک نے امتیاز برتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو کسی سے ہمدردی نہیں،کبھی سیاسی طور پر ریڈکو اور کبھی انڈس شوگر ملز کو فائدے پہنچائے گئے ، مقدمہ کی مزیدسماعت 10 مارچ کوکی جائیگی۔