5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کنٹریکٹ تقرریاں ختم کرنے کیلئے حکومت کو جمعرات تک مہلت
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے ، آئی جی سندھ سمیت پندرہ سینئر کنٹریکٹ افسروں کی برطرفی کیلئے،حکومت کوجمعرات تک مہلت دیدی ہے۔ عدالت نے حج اسکینڈل کیس کی تحقیقات پرایف آئی اے سے روزانہ کی بنیاد پررپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت عدالت سے ٹکراؤ پر اتر آئی ہے۔چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے حج اسکینڈل کیس کی سماعت کی ، جب یہ بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے رخصت پر ہیں تو عدالت شدید برہم ہوگئی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی معاونت کی بجائے روڑے اٹکائے جارہے ہیں ، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں ترمیم کرالیں کہ کرپشن کرنیوالے کسی بڑے پر عدالت ہاتھ نہیں ڈالے گی۔ عدالت نے اسی مقدمہ میں اعلیٰ عہدوں پر کنٹریکٹ بھرتیوں کیخلاف اپنی ہدایات پر پیش رفت اور ایل این جی کیس میں اپنی ہدایات پر حکومتی کارروائی کی رپورٹس طلب کیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایل این جی کیس میں رپورٹ جمعرات تک وزیراعظم کو پیش ہوجائے گی۔ عدالت نے تحریری حکم میں کہا ہے کہ بادی النظر میں آئی جی سندھ اور ڈی جی ایف آئی اے کا تقرر خلاف قواعد ہوا ، آئی جی سندھ کا کنٹریکٹ تقرر اور اس میں توسیع پی ایم سیکریٹریٹ کے زبانی احکامات پر ہوئی جبکہ ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات میں پیشرفت کا کریڈٹ وسیم احمد کو نہیں جاتا ، مقدمہ کی مزید سماعت یکم مارچ کوکی جائے گی۔