5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
ٹرینیں چلانے کیلئے کل سے ڈیزل خریدنے کی رقم نہیں، ریلوے حکام
جنگ نیوز -
اسلام آباد...قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیاہے کہ ریلوے کے ذمے16ارب روپے سے زائد کا بیرونی قرض حکومت اپنے ذمہ لے جبکہ اسٹیٹ بینک، ریلوے کے ذمہ40ارب روپے کا قرض معاف کردے۔ حکام نے بتایاہے کہ کل سے ریل انجن کیلئے ڈیزل خریدنے کے پیسے نہیں ہوں گے۔ اسلام آبادمیں ہونیوالے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ریلوے سے متعلق حکومت کیلئے چارٹرآف ڈیمانڈکی منظوری دی گئی۔ کمیٹی کو وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام کی طرف سے بتایا گیا کابینہ سے ریلوے کیلئے دسمبر میں منظور ساڑھے11 ارب روپے کے بیل آؤٹ پیکج سے ابھی کچھ نہیں ملا ، اسٹیٹ بنک کو قرض پر سود منجمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ریلوے ٹریک150 برس پرانا ہے ، اس پر ریل گاڑی پشاور سے پنڈی تک ساڑھے4 گھنٹے اور بس2 گھنٹے میں پہنچتی ہے ، حکام نے بتایا کہ ریل انجن چلانے کیلئے کل سے ڈیزل خریدنے کے پیسے نہیں ہوں گے جبکہ ادھار ڈیزل کی رقم90 کروڑ روپے ہوچکی ہے۔