تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

سعودی عرب توانائی کے متبادل ذرائع سے خوفزدہ تھا،وکی لیکس

جنگ نیوز -
ریاض…وکی لیکس کے پنڈورا باکس سے امریکا کے سعودی عرب سے وابستہ مفادات بھی ایک کے بعد ایک کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔دو ہزار نو کے دوران ریاض میں امریکی سفیر نے واشنگٹن انتظامیہ سے کہا تھا کہ مغربی دنیا توانائی کے متبادل کا بندوبست کررہی ہے ایسے میں تیل سے مالا مال سعودی عرب خود کو بندوق کی نوک کے نیچے دیکھ رہا ہے لہذا اس صورتحال میں اس سے توانائی کے شعبے میں خوب فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔23 نومبر دو ہزار نو ریاض سے واشنگٹن مراسلہ بھیجا گیا ۔ وکی لیکس سے جاری مراسلے میں یہ ظاہر نہیں کہ کس امریکی عہدیدار کو سعودی عرب کا دورہ کرنا تھا تاہم مراسلہ اسی عہدیدار کے نام تحریر کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ سعودی قیادت آپ کی آمد کا شدت سے انتظار کررہی ہے ۔ مراسلے میں کچھ اس طرح سے تحریر کیا گیا کہ ایسی صورتحال میں جب مغربی ممالک توانائی خصوصاً تیل کے متبادل کا بندوبست کرنے میں لگے ہیں تو سعودی عرب جس کا دانہ پانی صرف تیل کی ایکسپورٹ سے وابستہ ہے ، خود کو بندوق کی نوک کے نیچے دیکھ رہا ہے ۔ سعودی قیادت کو ڈر ہے کہ آنیوالے وقت میں جب اس سے تیل حاصل کرنیوالے ممالک متبادل کا بندوبست کرلیں گے تو اس کیلئے مسائل کھڑے ہوجائیں گے لہذا اس سے اچھا موقع نہیں کہ امریکا توانائی کے شعبے میں سعودی عرب سے خوب فائدہ اٹھائے ۔ وکی لیکس کے اس مراسلے سے ظاہر ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سعودی کمپنی آرامکو کی بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کس کا نتیجہ ہے ۔ مراسلے میں یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب سویلین نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے پر غور کررہا ہے جس میں مدد کیلئے امریکا بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.