5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
2008ء میں اسرائیل اور مصر ایران کیخلاف متحد ہوچکے تھے، وکی لیکس
جنگ نیوز -
قاہرہ … مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹنے سے اسرائیل کو بڑا دھچکا پہنچا ہے ۔ وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک دو ہزار آٹھ میں تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام کیخلاف کافی قریب آگئے تھے ۔ انتیس اگست دو ہزار آٹھ کو تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لوئس جی مورینو نے واشنگٹن کو مراسلہ ارسال کیا جس میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود براک کے23اگست کو قاہرہ دورے اور مصری قیادت سے ملاقات کی تفصیل بتائی گئی ۔ مراسلے میں عرب امور کے اسرائیلی مشیرDavid Hachamکا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مصر کے صدر حسنی مبارک ، انٹیلی جنس کے سربراہ اور حسنی مبارک کے دست راست عمر سلیمان اور وزیر دفاع محمد حسین طنطاوی سے مذاکرات میں اتفاق کیا گیا کہ ایران کو اس کے ایٹمی عزائم ہرگز پورے نہیں کرنے دیے جائینگے ۔ دونوں فریقین اس بات پر بھی متفق تھے کہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ سے نمٹنے کیلئے مصر اور اسرائیل کے اسٹریٹیجک مقاصد یکساں ہیں۔