تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

ریمنڈ ڈیوس کو مکمل استثنا حاصل نہیں، عدالت کو سچ بتاؤنگا،شاہ محمود قریشی

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . . سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد انہیں 31جنوری کو دفترخارجہ میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنا حاصل نہیں ہے، انہیں اس مسئلے پر خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔سینیٹر جان کیری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں بریفنگ سے قبل وزارت خارجہ نے بین الوزارتی میٹنگ بھی کی تھی، اور سب کا مشترکہ موقف تھاکہ ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنا حاصل نہیں ہے اورانہوں نے وزارت خارجہ کے نقطہ نظر کو پیپلزپارٹی کی قیادت پر واضح کردیا تھا، وزیراعظم نے ان کے موقف کی تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے انہیں بلایا تو وہاں جاکر سچ کہوں گا، ہوسکتا ہے کہ وہاں مجھے اس سچ کی اس سے بڑی قیمت چکانی پڑے جو انہوں نے چکائی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ انا کا مسئلہ نہیں،میرا موقف اصولی ہے،میں قوم کو مایوس نہیں کروں گا،حق اور سچ کا ساتھ دوں گا،میں کل کی طرح آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ بعض پی پی رہنماؤں کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات پر انہوں نے کہا کہ بلاوجہ کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے،میں احتساب کیلئے کٹہرے میں کھڑا ہونے کیلئے تیار ہوں،میں آج اپنے آپکو احتساب کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں،انہوں نے کہا کہ مجھ پر2الزامات ہیں ،مجھ پر ایک الزام مشرف سے ہمدردی کا تھا،دوسرا الزام یہ لگا کہ میں دوسرا فاروق لغاری بن رہا ہوں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بحیثیت ناظم ملتان مشرف کوریسیو کرنے سے انکار کیا،ہمیشہ پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مخالفت کی،ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کافی الحال ذکر نہیں کررہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلے الجھانا نہیں سلجھانا چاہتا ہے،ڈیوس کا معاملہ پولیس تفتیش میں اورعدالت میں ہے،وزارت خارجہ کو ڈیوس کے معاملے پرموقف دینا چاہیے،ہم نے سر جھکایا ہے،اب سر اٹھانے کا وقت ہے۔ڈیوس کے معاملے پردفتر خارجہ سے مشاورت کی،میری دو ہدایات تھیں، ایک قانون کی پاسداری کی جائے، دوسری ہدایت، سیکریٹری خارجہ سے کہاحقائق معلوم کیے جائیں،ریمنڈ کا مسئلہ پوری قوم کی عزت و وقار کامسئلہ بن چکا ہے۔شاہ محمودقریشی کے مطابق وزارت کا حصول میری ضرورت نہیں،میرا تعلق پیپلز پارٹی سے تھاہے اور رہے گا۔پارٹی کا استحقاق ہے کہ کس کو کہاں رکھنا ہے،پانی اور بجلی کا قلمدان بہت اہم ہے،مگر سوال تھا ان کاموں کا جو میں شروع کیے تھے، ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیرخارجہ انہوں نے کسی کو اپنے اختیارات میں مداخلت کی کبھی اجازت دی اور نہ سمجھوتا کیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.