5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
تہران نے نیوکلیئر فائل 2009ء میں ہی بند کر دی تھی، مراسلہ
جنگ نیوز -
کراچی…دو ہزار نو میں ایران پر نظر رکھنے والے ایک عہدیدار نے صاف کہہ دیا تھا کہ تہران کی جانب سے نیوکلیئر فائل بند کردی گئی ہے ۔ اس پر مزید پابندیاں لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ عہدیدار نے اسرائیل اور ایران کے معاملے پر امریکا کے دوہرے معیار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کا ایٹمی تنازع بھول کر دیگر معاملات پر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔تیس جولائی دو ہزار نو کو لندن میں امریکی سفارت خانے کے سیاسی امور کے منسٹر قونصلر گریگ بیری نے واشنگٹن کو مراسلہ بھیجا جس میں لندن ایران واچر کے عہدیدار کی عرب سفارت کاروں سے ملاقات کی تفصیل بتائی گئی ۔ مراسلے میں لندن ایران واچر گروپ کے عہدیدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ۔ عہدیدار نے واضح کیا کہ ایک طرف امریکا اسرائیل پر اس کے ایٹمی پروگرام کیخلاف پابندیاں عائد نہیں کرتا جبکہ ایران کو مزید پابندیوں کی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران پر اب مزید پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہونیوالا ۔ ایران اپنی طرف نیوکلییئر فائل کلوز کرچکا ہے اور یورینیم افزودگی کا عمل نہیں روکے گا ۔ امریکا کو چاہیئے کہ وہ بھی ایٹمی تنازع کو بھول دیگر مشترکہ معاملات پر ایران سے جڑے ۔ عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا کی عراق اور افغانستان میں پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں جبکہ ایران کامیاب ہوا ہے ۔ لندن ایران واچر کے عہدیدار نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی قوم اسلامی انقلاب کے حامی ہیں لیکن یہ بھی واضح کیا کہ ایران کا سیاسی نظام مستحکم ہے اور اس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں۔