5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پی سی او ججز کیس، پرویز مشرف کو بھی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…پی سی او ججز کے وکیل ڈاکٹرباسط نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ تین نومبر کو پی سی او نافذ کرانے والے سابق آرمی چیف پرویزمشرف کوبھی کٹہرے میں لایا جائے، جٹس ثاقب نثار نے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی کو سپریم کورٹ معطل نہ کرتی تو لاہور ہائی کورٹ کے 15 جج ایسا کردیتے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے پی سی او ججز کی اپیلوں پر سماعت کی جس میں توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، غیرفعال ججز حسنات احمد اور شبر رضا کے وکیل ڈاکٹر باسط نے دلائل میں کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کا تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے اس لئے ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکی جائے ، ڈاکٹرباسط نے کہا کہ توہین عدالت کارروائی سے قبل جج کو جوڈیشل کردار سے الگ کیا جانا چاہیئے ، عدالت نے حکم عدولی کے خلاف کارروائی میں امتیاز برتا ،ہے مرکزی ملزم کی بجائے شریک ملزم کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے آج عدالت میں کون ایسا جج ہے جس نے پی سی او کا حلف نہیں لیاہو ، ظفر شاہ کیس میں بڑے بنچ کا فیصلہ تھا کہ پی سی او حلف نہ لینا عوام کو حق انصاف سے محروم رکھنا ہوگا ، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہآپ ان باتوں کو مت چھیڑیں، تین نومبر کو تو ایک اخبار نے ممکنہ پی سی او کا حلف نہ لینے کا عہد کرنے والے ججز کے نام تک لکھ دیئے تھے ، لاہور ہائی کورٹ کے 15 جج ایمرجنسی کو معطل کرنے والے تھے ، جسٹس ثاقب نے کہا کہ انہوں نے خوداس ممکنہ حکم ڈرافٹ کیا تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ ملک میں لوگوں نے پی سی او حلف تو 10 بار لیا ہوگا لیکن پی سی او کے خلاف فیصلہ صرف ایک بار ہی آیا ہے، اب ملک میں صرف او صرف قانون کی حکمرانی ہوگی