5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کشمیرکونسل ای یوکی‘ ملین دستخطی مہم‘ ،ھیگ میں کامیاب کیمپ کاانعقاد
جنگ نیوز -
پیرس…رضا چوہدری /نمائندہ جنگ …بھارت کے زیر تسلط کشمیرمیں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف یورپ میں کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے جاری ایک ملین افرادکے دستخط جمع کرنے کی مہم کے سلسلے میں ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے افتتاحی کیمپ لگایا گیا۔ کیمپ کو کشمیرکونسل ای یو کو کشمیرسنٹرہالینڈکے ایگزیکٹوڈائریکٹرڈاکٹرزیب خان، آئی کے وی ،پیکس کرستی کی ماریان لوکس سمیت متعدد مقامی شخصیات، تنظیموں اور انسانی حقوق کے حامیوں کا تعاون حاصل رہا۔ کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین اور انٹرنیشنل کونسل فارہومین ڈیوپلمنٹ (آئی ایچ سی ڈی)کے سربراہ علی رضاسید نے بتایاکہ یہ کیمپ ہالینڈمیں انٹرنیشنل کورٹ کے سامنے اس لیے لگایا کیاہے تاکہ یہ عالمی عدالت مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دے۔ اگر دوسرے ملکوں میں جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو کورٹ میں لایاجاسکتاہے تو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی بے دریغ پامالی میں ملوث بھارتی فوجیوں کوعالمی انصاف کے اس کٹہرے کے سامنے کیوں نہیں لایاجاسکتا؟ ایک ملین دستخطوں کی اس مہم کا آغاز بلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں گذشتہ سال ہواتھا۔ ابتک بے شمارلوگوں سے کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف دستخط لیے گئے ۔علی رضاسید نے بتایاکہ بلجیم اور ہالینڈ کے بعداس مہم کے ذریعے دیگر یورپی ممالک میں گھوم پھرکر ایک ملین دستخط پورے کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں ان ممالک کی انسانی حقوق اور مقامی سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کرکام کیاجائے گا۔ یہ ایک ملین دستخطوں کے پورے ہونے تک یہ مہم جاری رہے گی اورمہم کی تکمیل پران دستخطوں پر مبنی دستاویزات کویورپی پارلیمنٹ کو پیش کیاجائے گا تاکہ بھارت کے زیرتسلط کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیاکے سامنے آشکارکیاجائے ۔ انھوں نے بتایاکہ کشمیرکونسل ای یو نے فیس بک پراپنا صفحہ بنالیاہے تاکہ لوگوں کو مسئلہ کشمیرپرآگاہی ہوسکے اوروہ اپنی رائے بھی دے سکیں۔ بھارتی فوج آئے دن کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور ہزاروں کی تعدادمیں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت واقعات میں ماردیاگیاہے۔علی رضاسید نے کہاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران بڑی تعدادمیں بے گناہ نوجوان بھارتی فوجیوں کے ہاتھو ں مارے گئے۔حالیہ سالوں کے دوران کشمیرمیں بے شمار بے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ہزاروں کی تعدادمیں بے گناہ مارے جانے والے کشمیری دفن ہیں جنھیں جعلی مقابلوں یا قید کے دوران شہید کردیاگیا۔ وادی کشمیرمیں کالے قوانین نافذ ہیں اور بہت سے کشمیری تحریک آزادی کی پاداش میں جیل میں ہیں۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے مطالبہ کیا کہ بھارت اگر مسئلہ کشمیرکے پرامن حل میں سنجیدہ ہے تو وہ وادی کشمیرسے اپنی فوجیں واپس بلائے ، حریت پسند رہنماؤوں اور کارکنوں کو رہاکرے اور کالے قوانین ختم کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث فوجیوں کو سزادے۔