5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
بچے اور خاتون کو بچانے کیلئے سراج حقانی کو نشانہ نہیں بنایا،سی آئی اے
جنگ نیوز -
واشنگٹن…فارن ڈیسک… بے گناہ شہریوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے ڈرونز حملوں کے کھلاڑی سفاک قاتل سی آئی اے حکام اب ڈھٹائی سے جھوٹ بھی بولنے لگے۔50لاکھ ڈالر سر کی قیمت مقرر کر کے کہتے ہیں کہ ہدف نشانے پر تھا لیکن بچے اور خاتون کی جان بچانے کے لیے حملہ نہیں کیا۔ امریکی اخبار’لاس اینجلس ٹائمز‘ کے مطابق گزشتہ برس سی آئی اے حکام کا کہنا ہے طالبان رہنما سراج الدین حقانی کو بے گنا شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سے ڈرونز سے نشانہ نہیں بنایا تھا۔ سی آئی اے نے گزشتہ برس پاکستان میں القاعدہ اور افغان طالبان کے اتحادی امریکا مخالف عسکریت پسند نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو ہلاک کرنے کا موقع ملا لیکن اس کے قریب ایک خاتون اور بچے کی موجودگی کی وجہ سے پری ڈیٹر سے میزائل فائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔گزشتہ چھ ماہ میں ایسے تین مواقع ملے جب ویڈیو میں اس کی شناخت کے بعد وہ نشانے پر تھا لیکن شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اسے نشانہ نہیں بنایا گیا۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے50لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا ہوا ہے۔امریکی تھنک ٹینک کے مطابق اوباما کے عہدہ صدارت پر آنے کے بعد پاکستان میں180ڈرونز حملے کیے گئے جو کہ بش کے آٹھ سالہ دور صدارت سے چار گنا زیادہ ہیں۔