5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
گودھرا ٹرین کیس: 31افرادمجرم قرار، 63کوبری کردیاگیا
جنگ نیوز -
احمدآباد…بھارتی عدالت گودھرا میں ٹرین کا ڈبہ جلانے کے مقدمے میں31 افراد کو مجرم قرار دیدیا ہے ۔ ان کی سزا کا اعلان25 فروری کو کیا جائیگا ۔ واقعے میں58 افراد کی ہلاکت کے حساس مقدمے کا فیصلہ آج سنائے گی ۔ ریاستی پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے اور اہم مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ۔ گودھرا کا واقعہ27 فروری2002کو پیش آیا جس میں سابر متی ایکسپریس کی ایک بوگی کو اسٹیشن کے قریب آگ لگادی گئی تھی ۔ واقعے میں اٹھاون افراد ہلاک ہوئے ۔ ان میں بیشتر ہندو کار سیوک تھے جو ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں کار سیوا سے لوٹ رہے تھے ۔ اس واقعے کے بعد گجرات کے مختلف مقامات پر مسلم کش فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور ہزاروں مسلمانوں کو اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی حکومت نے107 مسلمانوں پر ٹرین جلانے کا الزام عائد کیا۔ سبھی ملزموں کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں ایک جائزہ کمیٹی نے اسے دہشت گردی کا واقعہ نہیں مانا جس کے بعد ملزموں پر مقدمہ تعزیرات ہند کے تحت چلایا گیا ۔ مقدمے کا آغاز سابر متی سینٹرل جیل کے اندر جون دو ہزار نو میں ہوا ۔ اس دوران253 گواہوں کے بیانات قلم بند ہوئے اور1500 دستاویزی شواہد پیش کئے گئے ۔ دوران سماعت پانچ ملزمان انتقال کرگئے جبکہ8 بچوں کیخلاف علیحدہ عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ۔ خصوصی عدالت کے جج پی آر پاٹل آج چورانوے ملزموں کے خلاف فیصلہ سنائیں گے ۔ کچھ ملزمان ضمانت پر ہیں جبکہ تقریباً80 ملزمان آٹھ سال سے جیل میں قید ہیں ۔ 302 سمیت مختلف دفعات ہیں ۔ اکتیس افراد ایسے تھے جنہوں نے ٹرین کو جلانے میں حصہ لیا اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ۔ ان کی سزا کیا ہوگی اس کا اعلان25 فروری کو کیا جائے گا ۔ معاملہ ہائی کورٹ میں جائے گا اور پھر سپریم کورٹ میں جائیگا ۔