5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
لیبیا: مصراتہ میں سیکیورٹی فورسزکی فائرنگ ، کئی افراد ہلاک
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشرقی شہر مصراتہ میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر سر عام فائرنگ کی جس سے کئی افراد ہلاک ہو گئے ۔اقوا م متحدہ ،امریکا اور یورپ نے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تشدد کارروائیاں بند کرنے پر زور دیا ہے ۔لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے علاوہ بن غازی اور طبرق سمیت کئی شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، بدھ کومشرقی ساحلی شہر طبرق میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک رہنما معتوک حسین نے کہا کہ وہ انسانی حقوق اور آزادی حاصل کرکے نارمل زندگی گزارنا چاہتے ہیں ، ان کی مدد کی جائے۔فضائیہ کے ایک پائلٹ نے حکومتی ہدایت کے باوجود عوام پر بم باری نہیں کی اور طیارہ بن غازی کے نزدیک گراکر تباہ کردیا۔ اطالوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں مظاہرین پر تشدد سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی ہے۔ملک سے فرار ہونے والے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف ایک شہر میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔خونریزی سے بچنے کے لیے لیبیا کے باشندوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے تیونس میں داخل ہو گئی ہے،یورپی یونین نے لیبیا پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ لیبیا کے عوام پر تشدد انتہائی ظالمانہ اور شرمناک ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے لیے یہ صورت حال قابل قبول نہیں،عالمی برادری کو ایک زبان میں لیبیا کی حکومت کو پیغام دینا چاہیے۔انھوں نے قذافی کا نام لیے بغیر کہا کہ لیبیا کے حکمرانوں کو عوام کیساتھ کی جانی والی زیادتی کا جواب دینا ہوگ۔صدر اوباما نے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے جینیوا بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔صدر اوباما نے کہا کہ لیبیا کے خلاف اقدامات میں پابندیاں بھی شامل ہوں گی۔۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں برازیلی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ لیبیا میں مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں،انھوں نے امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ لیبیا سے فورا نکل جائیں۔ یونان میں بھی حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں، دارالحکومت ایتھنز میں حکومتی معاشی پالیسیوں اور ملازمتوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں تقریباّ ایک لاکھ افراد نے شرکت کی ۔ملک بھر میں چوبیس گھنٹے کی ہڑتال کے دوران تعلیمی ادارے بند رہے اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب تھی۔کئی مقامات پر مظا ہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔پولیس نے پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاج کرنیوالے مظاہرین کے کیمپ زبردستی ہٹادیے۔بحرین میں حکومت مخالف سرگرمیوں پر اگست میں گرفتار کیے گئے23افراد کی جیل سے رہائی کے بعد منامہ کے پرل اسکوائر پہنچنے پر مظاہرین نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور نعرے لگائے۔بحرین کی حکومت نے سیاسی اصلاحات کے لیے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش بھی کی ہے۔