5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
لیبیا :مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزارسے تجاوزکرگئی
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا میں صدرقذافی کے خلاف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزارسے تجاوزکرگئی ہے جبکہ سینتیس ہزارافراد ملک چھوڑگئے ہیں ۔سلامتی کونسل میں لیبیا پرپابندیوں کے حوالے سے پیش کی گئی قراردادپرآج بحث ہوگی۔امریکا نے طرابلس پر پابندیان عائد کرنے کااشارہ دے دیا ہے۔بحرین اوریمن میں بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔لیبیا میں مخالفین نے صدر قذافی کی حکومت کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کی ٹھان لی ہے۔سترہ فروری سے شروع ہونے والے مظاہرے تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ فوج کشی بھی مظاہرین کاکچھ نہ بگاڑسکی اوروہ آج بھی سڑکوں پر ہیں۔جہاں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کئی شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں ۔طرابلس میں فوج نے نمازجمعہ کے بعد ہونے والے مظاہرے پرفائرنگ کی۔بن غازی میں سیکڑوں افرادنے اپنے ساتھیوں کے جلوس جنازہ اورتدفین میں شرکت کی۔تاہم سیف الاسلام قذافی نے صحافیوں سے گفت گومیں کہا کہ فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردوں پرحملے کرنے کے بجائے انھیں مذاکرات کا موقع دیا جائے گا۔اورامید ہے کہ مسئلے کاپرامن حل نکل آئے گا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں لیبیا کی حکومت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پرزوردیا ۔ان کا کہناتھا کہ مظاہروں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلا ک ہوئے جبکہ 37 ہزارافراد ملک چھوڑ گئے ہیں،بان کی مون نے کہا مزیدوقت ضائع کرنے کامطلب مزیدزندگیوں کاخاتمہ ہوگا۔سلامتی کونسل میں فرانس اوربرطانیہ نے لیبیا پرپابندیوں کی قرارداد پیش کی جس پرآج بحث ہوگی ۔ قراردادمیں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہوسکتی ہے ،وہاں جاری تشدد ختم کرانے کے لیے اسلحہ کی فروخت پر پابندی اور سنیئر حکام کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ صدر معمرقذافی اپنے عوام کااعتماد کھوچکے ہیں ان کی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ لیبیا میں امریکی سفارت خانے نے عارضی طورپرکام روک دیا ہے۔ان کاکہناتھاپیر کوصدراوباما اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کریں گے جس میں لیبیاکے خلاف اقدامات اورپابندیاں عائد کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق لیبیاسے امریکی شہریوں کوواپس لانے کے لیے چارٹرڈطیارہ روانہ کردیاگیاہے اور ایک بحری جہازامریکی شہریوں کولے کرمالٹا پہنچ چکا ہے۔یمن کے دارالحکومت صنعامیں بھی مظاہرے جاری ہیں۔شہرمیں حکومت کے حامیوں اورمخالفین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔بحرین کے دارالحکومت مناما میں پرل اسکوائر ایک مرتبہ پھر مظاہرین کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ نے ملک میں بدامنی کا ذمے دارٹھہراتے ہوئے تین وزراکوفارغ کردیا ہے۔