5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
بیمارمعیشت پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں12 ارب ڈالر سے زائد اضافہ
جنگ نیوز -
کراچی …موجودہ حکمرانو ں کے تین سالہ دورے حکومت میں جہاں، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدرمیں22روپے50 پیسے کا اضافہ ہوا،وہاں ملکی بیمار معیشت کے علاج کے لیے صرف غیر ملکی قرض کا سہارا لیکر اس میں12 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کر دیا گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق ملکی معیشت کی ڈگمگاتی ناؤ پر قرضے کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ46 ارب ڈالر سے بڑھ کر58 ارب ڈالر کی سطح پر آگیا ہے اور روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والی حکومت نے عام آدمی پر مزید6 ہزار روپے کا غیر ملکی قرض لاد کر اسے29 ہزار روپے تک پہنچا دیا ۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قر ض کی بنیادی وجوہات میں محصولات میں کمی سرکاری اداروں کا خسارہ اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث سرمایہ کاری میں کمی ہے ۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تین سالہ دور حکومت میں معاشی اصلاحات میں اہم پیشرفت نہ ہونے کے باعث آج نہ صرف صنعت کاروں کیلئے کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے،بلکہ ملازمتوں کے مواقعے ماند پڑنے سے غربت کے بادل اور گہرے ہوگئے ہیں ۔ 2008 مارچ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر63 روپے کا تھااور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث ڈالر85 روپے50 پیسے کی سطح پر آگیا، جس سے ملک میں درآمدی اشیا کے مہنگے ہونے سے، مہنگائی کی آگ میں مزید تیزی آگئی اور دوسری جانب کم ہوتی ہوئی قوت خرید نے غریب عوام کیلئے دو وقت کی روٹی حصول بھی مشکل بنا دیا ہے ۔