5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
’چین نے امریکا پر واضح کردیا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی توسیع کی کوئی حد نہیں‘
جنگ نیوز -
بیجنگ …وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہزار آٹھ میں چین نے واضح الفاظ میں امریکا کو کہہ دیا تھا کہ بیجنگ کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی توسیع کی کوئی حد نہیں ۔چین کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی عہدیداروں سے ملاقات میں کہا تھا کہ یہ وقت ایسا نہیں کہ ہم دوسروں کو بتائے ہمارے پاس کیا ہے اور کیا نہیں ۔امریکا ، دنیا میں اُبھرنے والی دوسری بڑی معاشی طاقت چین کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بڑا فکر مند ہے ۔بیجنگ میں امریکی سفارتخانے سے واشنگٹن کو بھیجے گئے سفارتی تار کے مطابق جون دو ہزار آٹھ میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ڈپٹی چیف آف اسٹافMa Xiaotian نے امریکا کے دفاعی اور خارجہ محکمے کے عہدیداروں سے ملاقات میں واضح کیا کہ چین کی نیوکلیئر فورسز ، ایک انتہائی ضروری حقیقت ہے اور تکنیکی اعتبار سے اس کی صلاحیت میں پیشرفت کی کوئی حد متعین نہیں ۔ چین کی ایٹمی صلاحیتوں کا حجم کتنا ہے ، امریکا کو یہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرلMa Xiaotian نے برملا کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کا ملک امریکا کیساتھ اس معاملے پر شفاف موقف اختیار کرے ۔ جولائی دو ہزار نو میں ایک اور ملاقات کے حوالے سے امریکی سفیر کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل Ma Xiaotian نے یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ چین کبھی اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا ۔ اس کی ایٹمی صلاحیت دفاعی نوعیت کی ہے ۔ چین کے نائب وزیر خارجہHe Yafeiنے بھی جون دو ہزار آٹھ میں امریکی عہدیداروں سے ملاقات میں کہا تھا کہ ایٹمی صلاحیت کے بارے میں شفاف موقف اختیار کرنا ایک حساس ایشو ہے ۔ یہ وقت ایسا نہیں کہ چین دوسروں کو بتائے اس کے پاس کیا ہے کیا نہیں ۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کی فوجی قوت میں اضافہ ناگزیر ہے اور بیجنگ اپنی صلاحیتیوں پر دوسروں کی بتائی ہوئی حدوں کو قبول نہیں کرسکتا۔ ایک اور مراسلے کے مطابق جاپان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ چین کے ایٹمی صلاحیت امریکا کے برابر ہوجائے گی لہذا واشنگٹن کوئی احمقانہ اقدام کرنے کے بجائے چین کی بڑھتی ہوئی مضبوط ایٹمی صلاحیت سے نمٹنے کیلئے خود کو مزید مضبوط بنائے ۔