5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
وکی لیکس: سابق مصری حکمران حسنی مبارک کا ایک اور بھیانک چہرہ
جنگ نیوز -
قاہرہ …وکی لیکس مصر کے سابق حکمران حسنی مبارک کی قیادت کا بھیانک چہرہ بھی منظر عام پر لے آیا ۔ دو ہزار نو میں قاہرہ سے واشنگٹن بھیجے گئے مراسلوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مبارک حکومت نے دریائے کا نیل کا پانی سالانہ کوٹے سے زیادہ استعمال کرنے پر مشرقی افریقی ملکوں کیخلاف طاقت کا استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی ۔قاہرہ سے بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حسنی مبارک کی قیادت اپنے ملک کے وجود کو خطرے میں تصور کرتی ہے ۔ مصر کو خدشہ ہے کہ دریائے نیل کے اوپری حصے پر واقع ممالک نے اگر سالانہ کوٹہ ساڑھے پچپن بلین کیوبک میٹر سے زیادہ پانی استعمال کیا تو مصر میں خشک سالی جنم لے گی ۔ کینیا ، تنزانیہ اور یوگنڈا کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بارش پر انحصار نہیں کیا جاسکتا لہذا زراعت ، توانائی ، ماہی گیری اور پانی پر انحصار کرنیوالی صنعتوں کیلئے اب ضروری ہوچکا ہے کہ دریائے نیل سے پانی حاصل کیا جائے ۔ دنیا کا سب بڑا دریا دریائے نیل ، شمالی افریقا ، وسطی اور مشرقی حصے کے لاکھوں افراد کیلئے پانی کا سب سے اہم وسیلہ ہے ۔ حال ہی میں ماہرین یہ امکان بھی ظاہر کرچکے ہیں کہ دریائے نیل ، پانی کے معاملے پر جنگ کا سبب نہ بن جائے ۔