5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ کالعدم، 6 ججز کی ملازمت میں ایک سال توسیع کا حکم
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کے ججز کی نامزدگی مستردکئے جانے پر پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو کالعدم قراردے دیا ہے ،لاہور و سندھ ہائی کورٹ کے چھہ ججز کی مدت ملازمت میں ایک سال توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ، بنچ میں جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس طارق پرویز شاملتھے۔بینچ نے اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ججز تقرر کے پارلیمانی کمیشن کے سفارشات مسترد کردیں اور حکم دیا کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے 4اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز کی مدت ملازمت میں ایک سال توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ واضح رہے کہ ججز تقرر کیلئے پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات نامنظور کرتے ہوئے لاہور ،سندھ ہائیکورٹ کے6 ججزکی نامزدگیاں مسترد کی تھیں۔ اس سے قبل سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان نے جوابی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن واحد ادارہ ہے جو جج کی صلاحیت اور قابلیت کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔وفاق کے وکیل کا یہ کہنا کہ قانون کا محدود علم رکھنے والے کو کیسے جج بنایا جاسکتا ہے، جوڈیشل کمیشن پر حملہ ہے، عدالتی بنچ کے رکن جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ جب جج بنے تھے تو انہیں بھی سروس لاز اور قانون شفعہ کا علم نہیں تھا۔