تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

سیکورٹی ناقص تھی،ارکان اسمبلی غلط کہہ رہے ہیں،رحمان ملک

جنگ نیوز -
اسلام آباد...وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ وہ مقتول وزیر شہباز بھٹی کی سیکیورٹی کے ذمہ دار نہیں تھے ۔لیکن سیکورٹی ناقص تھی ارکان اسمبلی غلط کہہ رہے ہیں۔ لیکن اہم شخصیات کی سیکیورٹی سے متعلق وزارت داخلہ کی مینوئل بُک وزیر داخلہ کے اس دعوے کو غلط قرار دیتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ سیکیورٹی ضابطوں کی خلاف ورزی ان کی موت کا سبب بنی ۔ذرائع کاکہنا ہے کہ شہباز بھٹی کو جس وقت قتل کیا گیا ان کی حفاظت پرمامور کوئی اہل کار اس وقت موجود نہیں تھا ۔ اگر پولیس وزارت داخلہ کی مینوئل بُک Standard instructions for the protection of VIPsمیں دیئے گئے طریقہ کار پر عمل کرتی تو شہباز بھٹی جائے وقوعہ پر تنہا نہیں ہوتے ۔ وزارت داخلہ ہی اہم شخصیات کے لئے سیکیورٹی پروٹوکول کی ذمے دار ہے اور مینوئل بُک سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ کسی شخص کی حفاظت پر مامور اہل کار اُس شخص کو نہیں بلکہ پولیس افسروں کو جواب دہ ہوتے ہیں ۔ مینوئل بُک کے مطابق اسلام آباد پولیس کا سربراہ اور پولیس سیکیورٹی ڈویژن کے سربراہان اہم شخصیات کی حفاظت کے لئے اہل کاروں کی تعیناتی اور ضروری انتظامات کرنے کے ذمے دار ہیں ۔مینوئل بُک کے مطابق کسی شخص کو اپنی نقل و حرکت سے سیکیورٹی انچارج کو آگاہ رکھنا چاہئے اور سیکیورٹی انچارج کو حفاظتی انتظامات میں کسی تبدیلی کے لئے اپنے افسروں سے رابطے میں رہنا چاہئے ۔تاہم شہباز بھٹی کے کیس میں سیکیورٹی انچارج نے اپنے سینئر افسروں کو مقتول وزیر کی اس عادت سے آگاہ نہیں کیا کہ وہ محافظوں کے بغیر سفر کرتے ہیں ۔ سیکیورٹی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنا شہباز بھٹی کی عادت تھی لیکن اس کے باوجود متعلقہ پولیس افسروں نے متبادل انتظامات کے لئے سیکیورٹی کا جائزہ نہیں لیا ۔ وزارت داخلہ کی مینوئل بُک میں درج اس طریقہ کار کا جائزہ لینے سے وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود پولیس سیکیورٹی نہیں چاہتا تو اس کے ساتھ کسی حادثے کا ذمے دار انہیں کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.