تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

زرداری حکومت نے ڈرون حملوں میں اضافے کی اجازت دی،امریکی اخبار

جنگ نیوز -
نیو یارک…فار ن ڈیسک…صدر آصف علی زرداری کی حکومت نے امریکی حکومت کو ڈرونز حملوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی اجازت دی۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کیا ہے۔ اخبار کے مطابق ریمنڈ ڈیوس لشکر طیبہ کی سرگرمیوں اورافغانستان میں ان کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی تحقیقات کر رہا تھا جس پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو غصہ تھا۔9/11کی طرح آج پھر وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان فیصلہ کرے کہ وہ کس کا ساتھ دے گا ۔ سی آئی اے آئی ایس آئی پر اعتماد نہیں کرتی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں مصروف عمل سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں ،اپنی سرزمین سے خصوصی آپریشنز ٹرینرز کو واپس بلائے ، اور القاعدہ ، طالبان اور ان سے منسلک دہشت گردوں کے خلاف سی آئی اے کے ڈرون حملے بند کرے۔اخبار کے مطابق ممکنہ طور پر اوباما انتظامیہ نے اسلام آباد میں اپنے دوستوں کو مطلع کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس مخصوص جنگ میں امریکا دشمنوں کا پیچھا کرتا رہے گا چاہے پاکستان مدد کرے یا نہ کرے۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کبھی ماضی میں آسان نہیں رہے، غلطی یک طرفہ نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کی سر عام پاکستان پر تنقید عادت بن گئی ہے اس وقت جب پاکستان امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس کے ہزاروں فوجی طالبان کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔پھر پاکستان کا رویہ بھی غیر معمولی نہیں ہے۔امریکی اخبار نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی جاسوس ایجنسی کے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک سے پرانے تعلقات ہیں۔حکومت اور فوج نے کوئٹہ شوری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جو کہ طالبان کے رہنما ملا عمرکا آپریشنل مرکز ہے۔اسلام آباد کا امریکی تعاون بھی دودھاری ہے۔صدر آصف علی زرداری کی حکومت نے امریکی حکومت کو ڈرونز حملوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی اجازت دی، اور پھر اسی کے خلاف عوام میں شکایت کر تے ہیں۔ یہ سیاست کی گھٹیا شکل ہے جو اپنے حلقے میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے منافقت کر رہے ہیں۔پاکستانی فوج بھی امریکاکے ساتھ تعاون کرنے میں اس وقت خوش ہے جب وہ ڈرونز حملوں سے پاکستانی طالبان کو ہدف بناتے ہیں تاہم فوج اس وقت تعاون نہیں کرتی جب پاکستان میں افغان طالبان کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس لشکر طیبہ کی سرگرمیوں اورافغانستان میں ان کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی تحقیقات کر رہا تھا۔ جس پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو غصہ تھا۔ پاکستان فوج اس لیے بھی غصے میں ہے کہ سی آئی اے آئی ایس آئی کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کرتی۔مگر سی آئی اے آئی ایس آئی پر اعتماد نہیں کرتی۔9 / 11 کے بعد بش انتظامیہ نے اسلام آباد میں وزیر خارجہ کولن پاول کو بھیجا کہ امریکا اپنے دفاع کے لیے طاقت کا استعمال کرسکتا ہے اور پاکستان کوفیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کا ساتھ دے گا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.