29 مئی 2011
وقت اشاعت: 6:0
شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد نیا سیاسی بحران
جنگ نیوز -
دمشق ... شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد نیا سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے جہاں حکمران جماعت کے دو سو تینتیس ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں مظاہرین کے قتل کی مذمت کیلئے بیان کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی۔شام کے صدر بشار الااسد کے لیے روز بروز مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔گزشتہ ہفتے ملک میں اڑتالیس سال سے نافذ ایمرجنسی اٹھانے کا اعلان بھی ان کی حکومت سہارا دینے میں ناکام رہا ہے۔ حکمراں بعث پارٹی کے ارکان بھی ایک ایک کرکے بشار الاسد کا ساتھ چھوڑتے جارہے ہیں۔درعا میں فوج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کے قتل عام کے بعد بعث پارٹی کے مزید دو سو ارکان نے استعفیٰ دے دیا ۔ طاقت کے وحشیانہ استعمال نے عالمی سطح پر بھی صدر بشار الاسد کی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے ،اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران مظاہرین کو کچلنے کے لیے شامی حکومت کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ شامی حکومت کی مذمت کے متعلق برطانیہ،فرانس ،جرمنی اور پرتگال کی جانب سے مجوزہ بیان کی روس اور چین نے مخالفت کردی۔ درعا میں فوجی آپریشن کے بعد اردن نے شام کے ساتھ ملنے والی سرحد بند کردی ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی جانب سر چھپانے کی پناہ گاہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔