22 اگست 2011
وقت اشاعت: 15:7
مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام پر تحقیقات کا مطالبہ
جنگ نیوز -
برسلز…رضا چوہدری…کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین علی رضانے مطالبہ کیاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں ماورائے عدالت قتل عام کی سماعت کے لیے اقوام متحدہ کے زیراہتمام انٹرنیشنل ٹریبونل قائم کیاجائے۔ بھارت کے انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کی طرف سے ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں 2156بے نام قبروں کے انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ جنگی جرائم خاص طورپر ان قبروں میں دفن بے گناہ افرادکے ماورائے عدالت قتل میں ملوث بھارتی فوجیوں پر انٹرنیشنل ٹریبونل میں مقدمہ چلاکرانھیں سخت سزادی جائے۔بھارتی انسانی حقوق کی مقبوضہ کشمیرشاخ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ بے نام قبریں مقبوضہ وادی کی 38جگہوں پردریافت ہوئی ہیں۔ ان میں 851قبریں بارامولاکے علاقے، 14بانڈی پورمیں، 14قبریں ہندواڑاہ کے قصبے اور 1277کپواڑہ کے علاقے میں پائی گئی ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین نے ان قبروں کی مکمل چھان بین اور قبروں میں دفن افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیا تاکہ ہزاروں کی تعدادمیں لاپتہ ہونے والے افرادکے لواحقین کے تکلیف دہ انتظارکو کم کیاجاسکے۔ہزاروں کی تعداد میں مائیں، بہنیں اور دیگرخواتین اپنے پیاروں کاگذشتہ کئی برسوں سے انتظارکررہی ہیں ۔ علی رضاسید کے مطابق، بے نام قبروں کاسروے میں ہالینڈ کی انسانی حقوق کی علمبردار اورکشمیریوں کی ہمدرد خاتون کوآرڈی نیٹر ”ماریان لوکس “ نے مقبوضہ کشمیرکی تنظیم”انٹرنیشنل پیپلزٹریبونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس“ کے تعاون سے ریلیزکیاتھا۔تنظیم کے عہدیداروں اندرا پی،چترجی،پرویزامروزایڈوکیٹ، گوتم نوالکھا، ظاہرالدین، مہیرڈسائی اور خرم پرویزنے بے نام قبروں پراپنی رپورٹ دسمبر2009ءء میں جاری کی تھی۔ کشمیرکونسل ای یو اب تک بے نام قبروں کے مسئلے کوکئی یورپی فورموں اٹھاچکی ہے۔ اس مسئلے پر کئی مظاہرے اور سیمینار منعقدکروائے گئے۔کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ اب بھی اس مسئلے کو اٹھایاجارہاہے اور یہ آواز اس وقت تک اٹھائی جائے گی جب تک ان قبروں میں دفن بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث لوگوں پر مقدمات قائم نہیں کئے جاتے اورانھیں سزانہیں دی جاتی۔ علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری چھ دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں سے کسی نے بھی ان کی حالات پر کبھی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ عالمی طاقتوں نے کوسووو ، سربیا اور جنوبی سوڈان کے معاملات کو بڑی سنجیدگی سے لیالیکن کشمیرپر مخلصانہ کوششیں نہیں ہورہیں۔عالمی برادری کو مسئلہ کشمیرکی حقیقت کو سمجھناچاہیے کیونکہ اس مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔ کشمیرکونسل ای یوکے بیان میں کہاگیاہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے تک پرامن جدوجہدجاری رہے گی۔بھارت ظالمانہ ہتھکنڈے اختیارکرکے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانہیں سکتا۔ ایک لمبے عرصے سے کشمیرپر بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔ حالیہ دنوں بانڈی پورہ کے علاقے میں گیارہ کشمیری نوجوان بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ریاستی دہشت گردی کامقصد کشمیریوں میں خوف وہراس پیداکرناہے لیکن کشمیری ہرگزخوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ اپنا حق لے کررہیں گے۔کشمیرکونسل ای یو نے عالمی اداروں خاص طورپر اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی خصوصاً ماورائے عدالت قتل عام اور بے نام قبروں کی دریافت کا فوری نوٹس لے کرکشمیریوں کوان کا حق خودارادیت دلوانے میں کرداراداکرے۔