22 اگست 2011
وقت اشاعت: 15:7
لیبیا:قذافی کے گرد گھیرا تنگ،مخالفین کا طرابلس پر کنٹرول کا دعویٰ
جنگ نیوز -
طرابلس...لیبیا میں معمر قذافی کا طویل اقتدارخاتمے کے دہانے پر ہے۔حکومتی مخالفین نے دارالحکومت طرابلس کے بیشتر حصے پر قبضے کا دعوی کردیا ہے۔لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں کل شام باغی فوجوں کے ادخل ہونے کے بعد اب شہر کی گلیوں میں دست بدست لڑائی جاری ہے۔ باغی دستے شہر کے مرکزی علاقے باب العزیزیہ کا گھیرا تنگ کر چکے ہیں جہاں معمر قذافی کی قیام گاہ ہے اور امکان ہے کہ وہ اسی علاقے میں کسی بنکر میں موجود ہیں۔ اس علاقے میں قذافی کے حامی زبردست مزاحمت کر رہے ہیں۔ رات باغیوں کے شہر میں داخل ہونے کے بعد طرابلس کے گرین اسکوائر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا۔ طرابلس کے ہزاروں شہریوں نے باغی فوج کا زبردست استقبال کیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ قذافی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے۔ معمر قذافی کے بیٹوں کی حوالگی کے لیے انٹر نیشنل کریمنل کورٹ نے حکومتی مخالفین سے بات چیت کی ہے۔جنوبی افریقا کی وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ لیبیا سے معمر قذافی کو لانے کیلئے کوئی طیارہ نہیں بھیجا گیا ہے اور نہ ہی معمر قذافی یہاں آنا چاہیں گے۔ چین نے طرابلس میں حکومتی مخالفین کی آمد کے بعد لیبیا کی عوام کی خواہشات کے احترام پر زور دیا۔طرابلس پر قبضے میں نیٹو فوج باغیوں کا ساتھ دے رہی ہے لیکن کیا نیٹو لیبیا میں جمہوریت کی بحالی میں بھی مدد دے گا۔