تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
25 اگست 2011
وقت اشاعت: 11:19

افغان جنگ نیٹو کے وسائل کو ہڑپ کرنے لگ گئی،واشنگٹن پوسٹ

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ…افغان جنگ آہستہ آہستہ نیٹو کے وسائل کو ہڑپ کرنے گا ہے اورآئندہ8ماہ کیلئے2.7ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان میں استعمال کیا جائے گا جس میں لڑاکا طیارے اور ٹینک شامل نہیں۔ سوویت یونین نے افغانستان کو سات سو لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے جو سب ناکارہ ہوگئے۔ ایک لڑاکا طیارے کی پرواز پر سات ہزار ڈالر فی گھنٹہ اخراجات آتے ہیں۔امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق نیٹو جنگ کے منصوبہ سازوں نے افغان جنگ کو "لوہے کے پہاڑ "iron mountain," قرار دیا ہے جبکہ آئندہ آٹھ ماہ میں2.7 ارب ڈالر کے وسیع پیمانے پر فوجی ساز سامان کو افغان جنگ میں استعمال کیا جائے گا،لیکن اس سازوسامان کی فہرست میں لڑاکا جیٹ طیاروں اور ٹینکوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ رواں برس کے مارچ سے اب تک امریکا اور اس کے اتحادی افواج نے22ہزار گاڑیاں جس میں چار پہیوں والی نئی 514 مسلح موبائل اسٹرائیک فورس نامی بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھی جنہیں ابھی افغانستان میں استعمال کیا جائے گا ۔ 44 طیارے اور ہیلی کاپٹر ، 40 ہزار ہتھیار اور لاکھوں ریڈیو اور مواصلاتی آلات شامل تھے۔ افغانی حکام لڑاکا جیٹ طیاروں اور ٹینکوں کی تلاش میں ہیں۔ حال ہی میں قومی سلامتی کے اجلاس میں نیٹو کے حکام نے افغان فوج کی حالت کے بارے میں کرزئی کو آگاہ کیا۔ امریکی فوجی حکام نے افغانیوں کے لئے لڑاکا جیٹ طیاروں کے خریدنے سے سختی سے انکار کیا ہے۔ سوویت یونین نے افغانستان کو 700 سے زائد طیاروں دیئے تھے ، لیکن ان میں سے اب کوئی بھی پرواز کے قابل نہیں ان میں سے کچھ گر کر تباہ ہو گئے یا کچھ خراب ہو گئے جن کی مرمت نہیں کی گئی۔ نیٹو کے تربیتی مشن کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ولیم کالڈویل کا کہنا ہے کہ ایک جیٹ کی پرواز پر سات ہزار ڈالر فی گھنٹہ اخراجات آتے ہیں اور ہم ان کو خرید نہیں سکتے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.