تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 اگست 2011
وقت اشاعت: 10:47

کراچی میں مشین گنز،راکٹ لانچرز اور اینٹی ایئرکرافٹ بھی ہیں،آئی جی سندھ

جنگ نیوز -


کراچی…کراچی میں بدامنی کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ واجد علی درانی نے سپریم کورٹ کوبتایا کہ گزشتہ ایک ماہ میں 20 ملزمان گرفتارکئے گئے لیکن مدعیوں نے خوف کے باعث کسی کو شناخت نہیں کیا۔واجد درانی نے عدالت کوتفصیلات بتائیں کہ 24جولائی سے 24 اگست تک 306 افراد قتل ہوئے اور 25 لاشیں ملیں۔جبکہ ان میں سے 17بوری بند لاشیں شامل ہیں۔ پولیس نے 332 مقدمات درج کئے۔ چیف جسٹس نے اس جواب پر پوچھا کہ آپ نے پتہ چلایا کہ ان لوگوں کو اغوا کے بعد کہاں رکھا گیا۔اور آپ کسی ایک مغوی کا بیان تو لیتے تاکہ پتہ چلتا اغوا کرنے والے کون ہیں۔چیف جسٹس کے سوال پر آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ رہا کرائے گئے مغوی خوفزدہ ہیں اور بیان دینے کے قابل نہیں ہیں۔ اپنی صفائی میں آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ 19 اگست کو 18 افراد اغوا ہوئے ،جنہیں چھاپوں کے بعد چھڑایا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کن علاقوں سے اغوا کیا گیا۔ جس پر آئی جی سندھ واجد علی درانی نے بتایا کہ یہی بات ہے کہ میڈیاصرف کراچی کی رپورٹس دکھاتاہے دوسری شہروں کی نہیں۔ بینچ نے استفسار کیا کہ جن علاقوں میں جرایم ہوتے ہیں ان علاقوں کے ایس ایچ اوز کیا کرتے ہیں،دوران سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ میڈیا کے مطابق آپ روز ایس ایچ اوز تبدیل کررہے ہیں، جس پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ روز ایس ایچ اوز تبدیل نہیں ہوتے۔ بلکہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ چھ ماہ سے پہلے کسی ایس ایچ او کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ آئی جی سندھ نے اعتراف کیا کہ لوگ دعوے کرتے ہیں کہ وہ پہاڑ گرادیں گے انہیں ایس ایچ او لگا دیا جائے لیکن جب دو فائر ہوتے ہیں تووہ تھانوں سے نہیں نکلتے۔ آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ جولائی میں چھیالیس منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا اور شہر میں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لئے تین ہزار چھاپے مارے گئے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے سوال کیا کہ ٹارچر سیل شہر کے کن کن علاقوں سے ملے ہیں۔ جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کو کوئی ٹارچر سیل نہیں ملا تاہم رینجرز کو گزشتہ روز لیاری میں ٹارچر سیل ملے ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ انہوں نے کوئی ٹارچر سیل نہیں دیکھا ، آئی جی سندھ کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر اپ نے نہیں دیکھا تو ہم نے کونسا دیکھا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو توٹارچرسیل کے بارے میں پتا ہوگا جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ اگر ایس ایچ اوز کو پتا ہوتا تو وہ ان کے خلاف کارروائی کرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ٹارچر سیلوں کا پتا نہیں ہے یا پتا کرنا ہی نہیں چاہتے۔آئی جی سندھ نے اپنے جواب میں کہا کہ پولیس جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرتی ہے لیکن ان کے خلاف کوئی گواہی نہیں دیتا ، کراچی میں تاجر کروڑوں روپے یومیہ بھتہ دیتے ہیں ، شکایت بھی کرتے ہیں لیکن کسی کے خلاف گواہی نہیں دیتے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کیا کہ کراچی میں اسلحہ آتا کہاں سے ہے ،جس پر آئی جی نے بتایا کہ شہر میں ٹرینوں ، بسوں اور ٹرکوں کے علاوہ سمندر کے زریعے بھی اسلحہ آنے کی اطلاعات ہیں۔ واجد درانی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کراچی میں نہ صرف لائٹ اور ہیوی مشین گنزبلکہ راکٹ لانچر اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی موجود ہیں۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ایک کروڑ اسی لاکھ کے شہر میں ساڑھے بتیس ہزار پولیس والے ہیں جن میں سے بارہ ہزارسیکیورٹی ڈیوٹیز پر رہتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.