29 اگست 2011
وقت اشاعت: 12:37
پتا کرنا ہے کہ مجرموں کی پشت پناہی کون کررہا ہے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
کراچی...چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے کراچی میں بدامنی پر ازخود نوٹس کی سماعت کے موقع پر کہا ہے کہ عدالت جانناچاہتی ہے عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر حکومت نے کیا اقدامات کئے اور لوگوں کو قتل کرنے والوں کی پشت پناہی کون کررہا ہے؟لارجربینچ نے اٹارنی جنرل سے دیگر انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کراچی میں بدامنی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے عدالت میں ایف آئی اے، اسپیشل برانچ اور آئی بی کی رپورٹس پیش کیں اور آئی بی کی کچھ رپورٹس کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے اور میڈیا میں نہ لانے کی درخواست کی۔ ریمارکس میں ان رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے دیگر خفیہ اداروں کی رپورٹس طلب کرلیں جبکہ بینچ نے کہاکہ جب ان رپورٹس میں کوئی نئی بات نہیں اور دیگر کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے توعدالت کس طرح کوئی نتیجہ اخذ کریگی؟ دوران سماعت آئی جی سندھ واجد درانی نے پریزنٹیشن دی۔انہوں نے بتایا کہ 24جولائی سے 24 اگست تک 306 افراد قتل ہوئے اور 25 لاشیں ملیں، ان میں سے 17بوری بند اور آٹھ گلا کٹی لاشیں شامل ہیں۔ پولیس نے 332 مقدمات درج کئے۔آئی جی سندھ نے اعتراف کیا کہ کراچی کئی علاقے نو گو ایریاز ہیں۔انہوں نے بتایا 19 اگست کو 18 افراد اغوا ہوئے،جنہیں چھاپوں کے بعد چھڑایا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پتہ چلایا کہ ان لوگوں کو اغوا کے بعد کہاں رکھا گیا۔اور آپ نے کسی مغوی کا بیان لیایا پتا چلایاکہ اغوا کارکون تھے۔جس پر آئی جی سندھ نے جواب دیاکہ رہا کرائے گئے مغوی خوفزدہ ہیں اور بیان دینے کے قابل نہیں ہیں۔.واجد درانی نے کہاکہ شہرمیں بھتے کا سلسلہ بارہ سال سے جاری ہے پہلے بھتہ خور اپنی کمیونٹی سے بھتہ لیتے تھے پھر دوسری کمیونٹی کے لوگوں نے بھی بھتہ لینا شروع کیا تو لوگ چیخ پڑے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ میٹھادر، کھارادر، جوڑیابازار کے علاقوں میں بھتے کی زیادہ شکایا ت ہیں متعلقہ تھانوں میں کوئی گرفتاری یا مقدمہ کیوں نہیں؟ایس ایچ اوز کیا کرتے ہیں؟جبکہ میڈیا کے مطابق آپ روز ایس ایچ اوزبھی تبدیل کررہے ہیں، اس سوال پرآئی جی سندھ نے بتایا کہ روز ایس ایچ اوز تبدیل نہیں ہوتے،بلکہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ چھ ماہ سے پہلے کسی ایس ایچ او کو تبدیل نہیں کیا جائے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ٹارچر سیل کن علاقوں میں ہیں ،جس پر آئی جی سندھ نے بتایاکہ پولیس کوکوئی ٹارچر سیل نہیں ملا تاہم رینجرز کولیاری میں ٹارچر سیل ملے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ٹارچر سیلوں کا پتا نہیں ہے یا پتا کرنا ہی نہیں چاہتے۔آئی جی سندھ نے جواب میں کہا کہ کراچی میں تاجر کروڑوں روپے یومیہ بھتہ دیتے ہیں ، شکایت بھی کرتے ہیں لیکن کسی کے خلاف گواہی نہیں دیتے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کیا کہ کراچی میں اسلحہ آتا کہاں سے ہے ،جس پر آئی جی نے بتایا کہ شہر میں ٹرینوں ، بسوں اور ٹرکوں کے علاوہ سمندر کے ذریعے بھی اسلحہ آنے کی اطلاعات ہیں۔ واجد درانی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کراچی میں نہ صرف لائٹ اور ہیوی مشین گنزبلکہ راکٹ لانچر اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی موجود ہیں۔آئی جی سندھ کی تفصیلی بریفنگ کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکم دیا کہ حکومت عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر اپنے اقدامات سے آگاہ کرے اور بتایا جائے کہ کس طرح عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔لارجر بنچ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت حقائق جانناچاہتی ہے کہ کراچی میں بدامنی کی وجہ کیا ہے ا ور اس کی پشت پناہی کون کررہا ہے۔بعد میں سماعت منگل کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔