29 اگست 2011
وقت اشاعت: 13:56
کے ای ایس سی ملازمین کا مظاہرہ،ہنگامہ اور فائرنگ ،کئی افراد زخمی
جنگ نیوز -
کراچی...کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرہیڈآفس پراحتجاجی مظاہرہ کیاجنہیں منتشرکرنے کے لئے پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا۔عید سے قبل کے ای ایس سی انتظامیہ اور ملازمین کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا۔آج صبح سر پلس پول میں ڈالے گئے کے ای ایس سی کے ملازمین نے کے ای ایس سی کے ہیڈ آفس پر دھرنا دیا اور ہیڈآفس میں داخل ہونے کی کوشش کی عینی شاہدین کے مطابق کے ای ایس سی کے گارڈز نے جوابی کارروائی کے طور پر احتجاجی ملازمین پر فائرنگ کی، جس سے سات افراد زخمی ہوئے۔بعد میں مشتعل ملازمین نے کے ای ایس سی کی گاڑیون اور پولیس کی موبائل پر پتھراوٴ کیا اور ایک پولیس موبائل وین جلادی،مشتعل مظاہرین کے پر تشدد احتجاج کی وجہ سے کے ای ایس سی ہیڈآفس کے خارجی اور داخلی راستوں کو بند کردیا گیاہے جس کے باعث عملہ محصور ہوکر رہ گیاہے۔مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔سی بی اے چیئرمین اخلاق احمد کے مطابق مطالبات کی منظوری تک کے ای ایس سی کے ہیڈ آفس پر دھرنا جاری رہے گا،انہوں نے بتایاکہ 26 جولائی کو گورنر ہاوٴس میں تحریری معاہدے کی پابندی نہیں کی جارہی ہے، معاہدے کی روح سے تین دن کے اندر تین ماہ کی تنخواہیں ادا کی جانی تھیں جو ابتک نہیں کی گئیں۔ اخلاق احمد خان نے مطالبہ کیا کہ کے ای ایس سی آفس کے باہر مظاہرہ کرنے والے گرفتار ملازمین کو فوری رہا کیا جائے۔جبکہ ترجمان کے ای ایس سی کا کہناہے کہ ملازمین کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ، کے ای ایس سی ہیڈ افس پر حملے کے پیش نظر پولیس کی مزید نفری طلب کرکے تعینات کی جائے،مظاہرے کے دوران ایس ایس پی کلفٹن طارق دھاریجو اور سی بی اے کے جنرل سیکریٹری حاجی شہزاداحمد کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے،،جن کاکوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔