29 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:48
اسکواش کی بدترین صورتحال کی اصل وجہ فیڈریشن ہے،فہیم گل
جنگ نیوز -
کراچی …شکیل یامین کانگا… ملک میں اسکواش کی بدترین صورتحال کی اصل وجہ پاکستان اسکواش فیڈریشن ہے، سیکرٹری جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، اکیلا آدمی پالیسیاں بناتا ہے اور فیڈریشن چلارہا ہے، نان کوالیفائیڈ ہونے کے باوجود جرمنی ٹیم کے ساتھ کوچ کی حیثیت سے چلا گیا جہاں کھلاڑیو اور کوچ کے درمیان نہ صرف گالی گفتار ہوئی بلکہ ایک دوسرے کے گریبان بھی پکڑے لئے گئے، اسکواش کا کھیل مکمل سیاست کا گڑھ بن چکا ہے، بھارت اور دیگر نچلی رینکنگ کی ٹیمیں ہم سے اوپر چلی گئی ہیں، پاکستان جس نے اسکواش میں عالمی ریکارڈ قائم ہوئے ہیں آج ورلڈ مینز ٹیم اسکواش چیمپئن شپ میں ملکی تاریخ کی سب سے بدترین رینکنگ حاصل کی ہے، ان خیالات کا اظہار سابق قومی اسکواش کوچ فہیم گل نے جنگ سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔ اہم ایونٹس میں بغیر تیاری اور پلاننگ کے شرکت کی جارہی ہے ایسا لگتا ہے کھلاڑیوں کو جوائے ٹرپ پر بھیجا جارہا ہے۔ جان شیر خان جو خود عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں اس وقت پی ایس ایف کے ایڈوائزر ہیں ٹیم کے ساتھ کوالیفائیڈ کوچ کو نہ بھیجنے اور دیگر ایسے مشورے دے رہے ہیں جو ملکی اسکواش کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ پی ایس ایف کے اعلی عہدیداروں کا فیڈریشن پر کوئی چیک نہیں ہے انہوں نے ان لوگوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے جو چاہے مرضی کریں۔ ان کی توجہ نہ ہونے سے پاکستان اسکواش اس وقت بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ورلڈ مینز اسکواش میں ہماری ٹیم نے 12 سیڈ شرکت کی تھی اور ٹورنامنٹ کے اختتام پر 22 ویں پوزیشن حاصل کی اور ان ممالک سے شکست ہوئی جن کے خلاف ہارے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں اور کوچ بن کر جانے والے سیکرٹری عرفان اصغر کے درمیان نہ صرف گالم گلوچ ہوئی بلکہ ایک دوسرے کے گریبان بھی پکڑ لئے گئے۔ فہیم گل نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جو عالمی اسکواش میں ٹاپ ٹین میں جاسکتے ہیں، ان میں عامر اطلس ٹاپ پر ہیں، ان کے علاوہ فرحان محبوب، ناصر محبوب، طیب اسلم علی بخاری اور خواتین میں روشنا، صائمہ، زویا اور سعدیہ گل پاکستان کا فیوچر ہیں ان پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت، ایران اور خلیجی ممالک اپنے اپنے کوچز کو لاکھ روپے مشاہرہ دے رہے ہیں لیکن ہمارے کوالیفائیڈ کوچز کو چند ہزار روپے دیئے جاتے ہیں۔