30 اگست 2011
وقت اشاعت: 16:34
سپریم کورٹ میں کراچی میں امن و امان کے ازخودنوٹس کی سماعت
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی میں بدامنی سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت کراچی رجسٹری میں جاری ہے سندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ دلائل دے رہے ہیں عبدالحفیظ پیرزادہ نے کراچی اپنے دلائل میں کراچی کی صورتحال کی وجوہات بتائیں عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ عدالتوں سے ملزمان کو سزائیں ملنے کا تناسب بہت کم ہے ،پولیس اور رینجرز کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا جارہا،، ملزموں کو سزا ملنے کے تناسب کو گواہوں کو تحفظ فراہم کرکے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ ایوب خان کے الیکشن کے بعد جلوس نکالا گیا اور تین سو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، 1972 میں ممتاز بھٹو کے دور میں بھی ایسے ہی فسادات ہوئے ، انھوں نے کا کہ مہاجرقومی موومنٹ سہراب گوٹھ کے واقع کے بعد وجود میں ائی ، عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ غیر ملکی جو کراچی میں ایک لاکھ بھی نہیں تھے نادرا کے مطابق اب ان کی تعداد 25 لاکھ ہے اور ان کا اثرورسوخ اتنا ہوگیا کہ ایک برمی باشندہ بھی کونسلر منتخب ہوا عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علامات موجود ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان فسادات کی وجوہات کا تعین کرکے ان کا تدارک کیا جائے ، بابر اعوان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عید قریب ہے افتخار گیلانی صاحب کی عید ہوچکی ہے میں یہاں نہیں رہتا اور حفیظ پیرزادہ کا گھر کراچی ہے ،جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سب کا گھر پاکستان ہے اور کراچی بھی سب کا گھر ہے ، عید یہاں بھی ہوسکتی ہے ، عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ 24 اگست کو سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے بعد شہر کی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے ، عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ بظاہر حکومت شہریوں کے جان و مال کو تحفظ دینے میں ناکام ہوئی ہے ،اس حکم کو ارٹیکل 199 کے تحت ائینی پٹیشن میں تبدیل کرکے ہائی کورٹ سے تحقیقات کرائی جاسکتی ہے، جبکہ کراچی بار ایسوسی ایشن ، جماعت اسلامی ، سندھ بچاوٴ کمیٹی، عوامی تحریک،اے این پی اور دیگر نے فریق بننے کی درخواستیں دائر کردیں۔