30 اگست 2011
وقت اشاعت: 16:34
حکومتی مشینری حالات ٹھیک کرنے کیلئے استعمال کی جائے،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی میں بدامنی سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ وزیر اعلی اوران کی حکومت کی ذمہ داری ہے ، وہ یہ ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو عدالت مداخلت کرے گی۔ دوران سماعت حکومت سندھ کے کیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے اپنے دلائل دیئے۔وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی توصدر سندھ ہائی کورٹ بارانور منصور نے تجویزدی کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس کی سماعت کراچی کے بجائے اسلام آباد میں کرے، جس پر سندھ بچاوٴ کمیٹی کیوکیل مجیب پیرزادہ نے کہا کہ اگرآپ کراچی سے جائینگے تو یہاں قتل و غارت گری شروع ہو جائے گی، یہاں مارنے کا کہا جاتا ہے تو قتل و غارت گری شروع ہوجاتی ہے اور روکنے کا کہا جائے تو رک جاتی ہے آپ کراچی آئے ہیں سب کی نگاہیں آپ پر ہیں، فیصلہ کر کے جائیں، مجیب پیرزادہ نے کہا کہ قوم مزید انتظار نہیں کر سکتی، آپ یہیں فیصلہ سنائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپیریم کورٹ از خود نوٹس کیس کی سماعت کراچی میں ہی کرے گی، اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہاکہ کراچی کے حالات میں غیر ملکیوں کا کردار ہے ان میں سے بعض دوہری شہریت کے حامل ہیں دوہری شہریت کا حامل شخص عوام کی نمائندگی کاحق نہیں رکھتا کیونکہ اس کی وفاداری پاکستان سے باقی نہیں رہتی ، جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسارکیا کہ دوہری شہریت کے حامل سرکاری افسران سے متعلق اپ کا کیا خیال ہے ،جس پر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ ان کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے جیسا سیاست دانوں کا ، عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ جب لوگوں کو اس طرح قتل کیا جارہاہو ں تو عدالت کیا کرسکتی ہے ، میرے خیال میں حکومت کے پاس مشینری موجود ہے جو حالات پر قابو پاسکتی ہے ، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ وزیر اعلی اوران کی حکومت کی ذمہ داری ہے ، وہ یہ ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو عدالت مداخلت کرے گی چیف جسٹس نے ائی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ کہتے ہیں کہ مغوی بیان دینے کے قابل نہیں جیو کے پروگرام کپیٹل ٹاک میں چار مغویوں نے آکر صورتحال بیان کی،آئی جی سندھ نے کہا کہ جیو میں میرے اوپر الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے عدالت کو حقائق نہیں بتائے ، چھڑائے گئے اٹھارہ مغوی وہ نہیں ہے جن کو جیو کے پروگرام میں دکھایا گئا ہے م س پر امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے اپ کو ان لوگوں کا بھی پتا نہیں جو پروگرام میں دکھائے گئے ہیں ،عدالت نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ اپ جیو کے پروگرام کی سی ڈی حاصل کریں اور18مغویوں کا بیان قلم بند کرکے ملزمان کو تلاش کریں۔بینچ نے مرتضی چنائے قتل کیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی سراج لاشاری کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اپ نے ابھی تک کیمیکل ایگزامن کی رپورٹ جمع نہیں کی باقی اپ کیا کریں گے ،اپ لوگ تفتیش کرنا ہی نہیں چاہتے ،سماعت پانچ ستمبر تک ملتوی کردی گئی آئندہ سماعت بھی کراچی رجسٹری میں ہی ہوگی۔