1 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:56
انتہا پسندی کا تدارک، ماہرین نفسیات کی مدد لی جائے گی، رحمان ملک
جنگ نیوز -
کراچی...وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ماڈل پر جرائم پیشہ افراد سے انتہا پسندی کے رجحانات کے تدارک کے لئے ماہرین نفسیات کی مدد لی جائے گی جبکہ کالج اور یونی ورسٹی کی طلباکو جرائم کے خلاف متحرک کرنے کے لئے دو ہفتے کی تربیت دی جائے گی۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ٹارگٹ کلر ہم گرفتار کر چکے ہیں ان کی ڈی وی ڈی عید کے بعد میڈیا کو جاری کی جائے گی۔ان کاکہناتھاکہ شہر میں کوئی آپریشن نہیں صرف ٹارگٹڈ سرجیکل ایکشن ہورہا ہے،گزشتہ رات 40 مزید گرفتاریا ں ہوئی ہیں جنہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔رحمان ملک نے کہاکہ کراچی میں قتل ہونے والا صنعت کار ٹارگٹ کلنگ میں نہیں ڈکیتی میں مزاحمت پر مارا گیا۔جبکہ نیول آفیسر وکیل پر فائرنگ کے دوران زد میں آگئے،جسے ذاتی دشمنی پر نشانہ بنایا۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ اس ایک واقعے سے خراب امن و امان کی صورتحال کا تاثر دینا غلط ہے ،پورے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، کراچی میں ایک قتل زیادہ ہوتا ہے، اور ایک شہر کو فوکس کرنا درست نہیں۔ رحمان ملک نے کہاکہ سعودی عرب کے ماڈل پر جرائم پیشہ افراد سے انتہا پسندی کے رجحانات کے تدارک کے لئے ماہرین نفسیات کی مدد لی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ کالج اور یونی ورسٹی کی طلبا یونینوں سے ملاقات کرکے جرائم کے خلاف ان کو متحرک کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پولیس اپنے اپنے علاقے میں نوجوانوں کو رجسٹر کرے گی اور انہیں جرائم کے خلاف دو ہفتے کی تربیت دی جائے گی۔ان کا کہناتھا کہ ٹارگٹ کلرز سے تفتیش کے دوران میڈیا نمائندوں کو بھی بلایا جائے گا، تاکہ حقائق سامنے آئے۔