1 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 15:48
پاکستانی فلم ''بول'' بھارتی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں
جنگ نیوز -
کراچی …رفیق مانگٹ...پاکستانی فلم سازی کی تاریخ میں فلم’بول‘ بہترین کاوش ہے۔جو ،نام نہاد اصول، خودساختہ مذہبی روایات ،معاشرتی بے حسی اور انسانی جذبات کو اجاگر کرتی ہے۔بول ان جذبات اور معصوم خواہشات کی آواز ہے جو ان جھوٹی روایات اور جہالت کے ظالم پنجے تلے کچلی جاتی ہیں۔ اس فلم نے بھارت کے تمام حلقوں سے بھر پور پذیرائی حاصل کی ہے اور بھارت ذرائع ابلاغ نے فلم کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔بھارت میں فلم بول کی نمائش پر ’ ٹائم آف انڈیا،’ڈیلی بھاسکر‘نشریاتی ادارے’این ڈی ٹی وی‘ریڈیف موویز،آئی بی این اور دیگر کئی بھارتی نشریاتی اداروں،جرائد اوراخبارات اور برطانوی نشریاتی ادارے نے فلم ’بول‘ کوبھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے بھارتی اخبار’ڈیلی بھاسکر‘ کے مطابق پاکستانی فلم بول31اگست عید کے روز بھارت میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اس فلم کے موضوع نے عوام کے دلوں کوچھو لیا۔ فلم بو ل کی کہانی لاہور کے ایک حکیم صاحب کے متعلق ہے اور اس کی کل 14 اولادوں میں سے سات بیٹیاں اور ایک بیٹا زندہ ہے۔وہ ان سب سے نفرت کرتا ہے ا ور ان کو کنٹرول کر نے کیلئے مذہب کا سہارا لیتا ہے۔گھر میں ہر وقت والد صاحب کے خوف سے سکتہ طاری ہے وہ خوف مذہب کا ہو یا طاقت کا۔ان میں سے ایک بیٹی جو دقیانوسی معاشرے کے فرسودہ رسم و رواج کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتی ہے۔ جب وہ ناکام ہو جاتی تو اپنے والد کو قتل کردیتی ہے جس کے جرم میں اسے سزائے موت دی جاتی ،موت سے قبل اس کے بولے گئے الفاظ’اگر تم کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو‘ معاشرے کیلئے کئی سوالات چھوڑ جاتی ہے، اس فلم میں کئی نازک اور صنفی تعصب اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے مسائل کو اٹھایا گیا ہے۔ اس فلم کو رواں برس کی20مئی کو پاکستا ن اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں ریلیز کیا گیا۔ یہ فلم پاکستان کے باصلاحیت اور نامورہدایت کار شعیب منصور کی کاوش ہے، بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق شعیب منصوراس سے قبل سب سے زیادہ موٴثر ،غیر جانبدار اور جامع انداز میں دہشت گردی کے عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے "خدا کے لئے" جیسی شاہ کار فلم پیش کر چکے ہیں ۔ وہ فلم بھی دنیا بھر میں ریلیز ہوئی اور متعدد ایوارڈز حاصل کئے ۔بول کے ذریعے انہوں نے گھریلو اور معاشرے کے مجموعی رجحان کو پیش کیا جو بنی نوع انسان کو درپیش ہیں۔فلم میں عورتوں کی حالت زار کواس قدر دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو وہ گھرانہ جانا پہچانا سا لگتا ہے۔ بھارت کے ڈیلی نیوز اینڈ انیلسزDNA کے مطابق فلم بول میں اسلام کے جدید تصورا ور اس کے دنیا بھر میں اثرات کوخوبصورتی سے پیش کیا گیا ۔یہ فلم ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں عورتوں کو ایک بوجھ اور بے مصرف شے سمجھا جاتا ہے۔''بول" کے پروڈیوسر وکرم راجانی اور شاہد جمال ہیں جبکہ فلم کی کہانی خود شعیب منصور نے لکھی ۔ "بول" ایروز انٹرنیشنل، شو مین پروڈکشن اور جیو فلمزکے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ فلم کے فنکاروں میں حمیرا ملک، عاطف اسلم، ایمان علی، مائرہ خان، منظر صہبائی اور شفقت چیمہ شامل ہیں۔ عاطف اسلم گلوکاری اور ایمان علی ماڈلنگ کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں شہرت سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ شفقت چیمہ پاکستانی فلموں کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے۔فلم کی موسیقی باقر عباس جبکہ گلوکاری کے جوہر عاطف اسلم، حدیقہ کیانی، سجاد علی، شبنم مجید، احمد جہانزیب اور شجاع حیدر نے دکھائے۔