3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 11:34
وکی لیکس کے میڈیا پارٹنر کا غیر سنسر دستاویزات کے اجراء سے لاتعلقی کا اعلان
جنگ نیوز -
کراچی......رفیق مانگٹ..... خفیہ معلومات کو افشاء کر نے لئے سرگرم سائٹ وکی لیکس نے 251,287 امریکی کیبلز کو منظر عام کردیا۔ اس سے قبل وکی لیکس سفارتی کیبلز کے اجراء کے وقت کئی پہلووٴں کا خیال رکھ رہی تھی۔ وکی لیکس کے چار میڈیا پارٹنر برطانوی اخبار’گارڈین‘ امریکی اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ جرمن جریدے ’در اشپیگل ‘اور اسپینی اخبار ’ایل پیرس ‘ نے وکی لیکس کی طرف سے سفارتی کیبلز جاری کرنے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور متفقہ مذمت کی ہے اور وکی لیکس کی سائٹس سے اپنے آپ کو الگ کر تے ہوئے کہا ہے کہ’ماضی میں وکی لیکس سے ہمارے روابط اس واضح بنیاد پر تھے کہ ہم صرف وہی پیغامات شائع کریں گے جس کی مشترکہ طور پر تدوین کی گئی ہو اور ہم اپنی ان مشترکہ کوششوں کا دفاع کرتے رہیں گے۔ لیکن ہم سارے مواد کی غیر ضروری اشاعت کا دفاع نہیں کر سکتے درحقیقت ہم اس کی مذمت کرنے میں ساتھ ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے’اے بی سی نیوز‘بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق وکی لیکس نے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا کہ امریکی سفارت کاری کے 45برسوں پر روشنی ڈال رہے ہیں اور ان تمام کیبلز کو آن لائن کرنے کا وقت آگیا ہے۔ حالیہ لاکھوں دستاویزات کے جاری ہونے سے امریکا کے ساتھ پاکستان ،افغانستان اور وینزیلا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل ان دستاویزات کو جاری کرتے ہوئے ان پہلووٴں کو ضرور مد نظر رکھا جاتا تھا اور ان کیبلز کو سنسر کر دیا جاتا تھاکہ ان کے افشاء ہو نے سے کسی بے گناہ شخص کی زندگی خطرے ست دو چار نہ ہو۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ ان سفارتی کیبلزکودیکھ کر یوں لگتا ہے بغیر کسی منصوبہ بندی سے ان دستاویزات کو اس بار جاری کردیا گیا۔وکی لیکس کی یہ کیبلز معلومات کا تبادلہ کرنے والی سائٹس پر بھی دکھائی دے رہی ہیں۔وکی لیکس کے بارے کئی کتب شائع ہو چکی ہیں ۔وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج نے گزشتہ برس موسم گرما میں برطانوی اخبار گارڈین کے ایک صحافی ڈیوڈ لےDavid Leigh کو ان کیبلز تک رسائی کے لیے ایک خفیہ کوڈ(پاس ورڈ)دیا تھا۔ صرف اسی کی مدد سے وکی لیکس کی بغیر سنسر کیبلز تک رسائی ہو سکتی تھی۔اس کے کچھ ماہ بعد وکی لیکس نے خفیہ دستاویزات کا کچھ سنسر کرکے آن لائن شائع کیا تھا۔ اس دوران جب ڈیوڈ لے ان دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے شائع کر رہے تھے، تو ایک طرف تو جولیان اسانج قانونی مسائل سے نمٹ رہے تھے اور دوسری جانب اْن کی ویب سائٹ بھی مسلسل سائبر حملوں کا شکار رہی۔فروری 2011 میں ڈیوڈ لے کی وکی لیکس بارے ایک کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں لے نے تفصیل سے بتایا کہ کیسے اسانج نے انہیں ایک کوڈدیا اور انہوں نے اس خفیہ آن لائن فائل کا مطالعہ کیا۔اس وقت تک ان ڈھائی لاکھ دستاویزات میں سے چند ہزار ہی عوامی سطح پر سامنے آئے تھے اور اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ کسی امریکی سفارتکار کی زندگی خطرے میں نہ پڑے۔اس سلسلے میں z.gpg نامی ایک فائل بنائی گئی تھی۔ بعد میں وکی لیکس نے خفیہ دستاویزات میڈیا کے حوالے سلسلہ وار طریقے سیکی تھیں۔25 اگست کو جرمن اخبار ڈیر فرائی ٹاگ میں ایک مضمون میں لکھا کہ ڈیوڈ کی کتاب میں بتایا گیا پاس ورڈاب بھی کارگر ہے۔ اس مضمون میں فائل کا نام اور پاس ورڈ تو شائع نہیں کیا گیا تاہم دو دن سے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کئی پیغامات میں اس پاس ورڈ کے حوالے سے اشارے دیے جانے لگے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ڈیٹا شیرنگ ویب سائٹس پر یہ غیر سنسر شدہ دستاویزات دکھائی دینے لگیں اورگزشتہ روز یہ تمام خفیہ دستاویزات بآسانی دستاب ہو گئیں۔اس حوالے سے ڈیوڈ لے کو پاس ورڈ شائع کرنے کی وجہ سے الزامات کا سامنا ہے تاہم ڈیوڈنے ان لزامات کو ’بے بنیاد اور فضول‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیٹا شیرنگ ویب سائٹس پر شائع ہونے والے دستاویزات اسانج کی جانب سے انہیں مہیا کی گئی فائل سے ماخوذ نہیں۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ ایک طرف تو وکی لیکس نے فائل جاری کی اور دوسری طرف تقریبا اسی وقت ڈیوڈ لے کی کتاب میں پاس ورڈ شائع ہوا، جس کی وجہ سے یہ خفیہ دستاویزات بغیر سنسر شدہ حالت میں عوام کے ہاتھ لگ گئیں۔