5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
2ماہ بعد سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں، وزیر خزانہ
جنگ نیوز -
کراچی . . . . . . . . . وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے خبردار کیا ہے کہ بدترین سیلاب سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس دو ماہ بعد سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی رقم نہیں ہوگی۔ معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے سول اور عسکری اداروں کو مالیاتی امور پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں وزیر خزانہ نے سیاسی اور عسکری قیادت کو معاشی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بھاری اندرونی اور بیرونی قر ضے معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حصول فوری طور پر روکنا ہو گا اور غیرملکی قرضوں کا حصول بھی موجودہ معاشی صورتحال میں زیادہ قابل عمل نہیں رہا۔ حکومت کو سرکاری ملکیتی اداروں کی جنگی بنیادوں پر تشکیل نو کرتے ہوئے ان کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اجلاس میں وزرائے اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہوں‘ وفاقی وزرا اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق عبدالحفیظ شیخ نے واضح کیا کہ معیشت پہلے ہی تیزی سے زوال پذیر تھی۔ سیلاب کی وجہ سے اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معیشت اور مالیاتی امور میں غیرذمہ دارانہ طرزعمل کی وجہ سے موجودہ حکومت کیلئے عالمی سطح پر کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد بہت مشکل ہوچکا ہے۔ وزیر خزانہ نے پاکستانی حکومت کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے اعتماد کے فقدان اور فنڈز کے استعمال کیلئے ایک شفاف نظام کی تشکیل میں ناکامی کو عالمی برادری کی جانب سے بہت کم امداد فراہم کرنے کی ایک بڑی وجہ قراردیا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت کے پاس اخراجات میں کمی اور ریونیو میں اضافے کے سوا موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے بعد صوبوں کو مالی امور کیلئے وفاق کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے۔ اور ہنگامی صورتحال میں بھی اپنے طور پر اقدامات اور اخراجات کو کنٹرول کرکے صورتحال میں بہتری لانی چاہئے۔