22 اگست 2011
وقت اشاعت: 17:43
رحمان ملک اور ذوالفقار مرزا میں جھڑپ،شرجیل میمن کی تردید
آج نیوز - کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر وزیر اعظم کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور سندھ کے سینئر وزیر ذوالفقار مرزا میں تلخ کلامی ہوگئی۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے معاملات کو کنٹرول کیا۔ کئی وزراء نے کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ کردیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا۔ جس میں رحمان ملک اور خورشید شاہ بھی شریک تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران ذوالفقار مرزا نے رحمان ملک کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رحمان ملک پیپلز پارٹی کے نمائندے ہیں لیکن ترجمانی ایم کیو ایم کی کرتے ہیں۔ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ کراچی میں لوگ مررہے ہیں اور رحمان ملک مزے کر رہے ہیں۔ اس پر رحمان ملک نے جواب دیا کہ کچھ لوگوں کو ان کاکراچی آنا اچھا نہیں لگتا تو وہ نہیں آئیں گے۔ ذوالفقار مرزا نے رحمان ملک کے سندھ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ طے کرلیں کہ پندرہ دن تک کراچی آئیں گے، نہ کسی کو فون کریں گے، پھر صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ اس بار رحمان ملک نے پینترا بدلہ اور جواب دیا کہ جب تک صدر اور وزیراعظم کہتے رہیں گے وہ کراچی آتے رہیں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ذوالفقار مرزا اور رحمان ملک میں تلخ کلامی کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مصدقہ خبریں چلانے والوں نے پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر داخلہ منظور وسان نے بھی یہی بات کہی۔منظور وسان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ضرورت پڑی تو فوج بلا سکتے ہیں تاہم فوجی آپریشن مسئلے کا مستقل حل نہیں۔