تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
24 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:51

لیبیا :قذافی کا قتدار شکست و ریخت کا شکار

آج نیوز - لیبیا میں قذافی اقتدارشکست وریخت کا شکار ہے ،لیکن کامیابی کسے ملی؟ لیبیا کی نئی حکومت کے خدوخال کیا ہوں گے؟ جمہوریت آئے گی یا باغی گروہوں میں خانہ جنگی مزید تباہی اوربربادی کاسبب بنے گی یا پھرکوئی آمرجھپٹنے کو تیار بیٹھا ہے۔لیبیا میں باغیوں کے چالیس سے زائد گروہ نظریاتی اختلافات کا شکار ہیں، باغیوں کی جس قومی عبوری کاوٴنسل کوفاتح قراردیا جارہا ہے وہ کئی مخالف بلکہ متحارب جتھوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ اسے سانجھے کی ہنڈیا بھی کہا جاسکتا ہے،اٹھائیس جولائی کوباغی کمانڈر عبدالفتح یونس کے اندرونی سازش میں قتل سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ باغیوں کامشرقی گروہ نئی قومی فوج میں شمولیت کی بات کرتا ہے تومغربی گروہ بن غازی کی باغی کونسل سے سخت نالاں،عبوری کونسل کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے نہ ملکی انتظامات کی پیشہ ورانہ صلاحیت۔ اوپر سے بچے بچے کے پاس خطرناک اسلحے کی بھرمار ہے جس کی واپسی ایک مسئلہ اورموجودگی امن کے لیے ہمہ وقت خطرہ ۔
اوپرسے نیٹوملکوں نے حملوں کے نام پر جو سرمایہ کاری کی ہیاس کی واپسی ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ خود باغی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نیٹوکی بمباری کے بغیر قذافی کی شکست ممکن نہیں تھی،اب نیٹواتنی بھی دیالو نے نہیں کہ اللہ واسطے باغیوں کے لیے اپنا اتنا گولہ بارود ضائع کردے ،لیبیا کے تیل کے سب سے بڑے خریداراٹلی اورفرانس نے قذافی اقتدارکے خاتمہ کیلئے دل کھول کر وسائل جھونک رکھے ہیں، لیبیا کی قومی عبوری کاوٴنسل نہ صرف وسائل کی تقسیم وتنظیم میں نیٹو کی محتاج ہے،نیا لیبیا سیاسی اورمعاشی لحاظ سیشاید ہی آزادریاست بن پائے گا۔ توپھر لیبیا میں ہوگا کیا؟ جمہوریت عراقی یا افغانستانی شکل ،اس سے تو سوائے خانہ جنگی اورلڑائی کی آگ پھیلنے کے کوئی دوسری صورت نظرنہیں آتی۔
اگرخانہ جنگی کا خدشہ درست ثابت ہوا تو ایک اورآمر کے لیے راستہ ہموار ہوجائے گا۔ سو اس کے لیے باغی بٹالین کے لیفٹیننٹ عبدالفتح یونس العبیدی اورقذافی کے سابق چیف آف اسٹاف المہدی العربی کا نام امیدواروں کی فہرست میں پیش پیش ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.