3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:42
بارش کی تباہ کاریاں، تین روز میں تیس افراد جاں بحق
آج نیوز - سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے مخلتف علاقوں میں موسلا دھار بارش عوام کے لیے وبال جان بن گئی۔ تین روز کے دوران بدین ، ٹھٹھہ ، نوشہرو فیروز، ڈیرہ غازی خان ، لورالائی سمیت ملک بھر میں تیس افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔حالیہ بارش نے سندھ بھر میں شدید تباہی مچائی ہے۔ ضلع خیر پور کے علاقے فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں پچاس، پچاس فٹ چوڑے شگاف پڑنے سیآٹھ دیہات اور وسیع اراضی زیرآب ہے۔ادھر بارش کے بعد گاڑھی پل کے بعد کے قریب گھر کی چھت گرنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق، چھ خواین زخمی ہوگئیں، جب کہ بارش کے بعد نارا اور پریالو میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں خاتون سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔ضلع میر پور خاص میں طوفانی بارش کے باعث ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانچ مقامات پر شگاف پڑنے کے خطرے کیبعد پشتوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔ سیم نالے سے ملحقہ علاقوں کے رہائشی سینکڑوں افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئیدادو، بدین ، میہڑ سمیت دیگر علاقوں میں سینکڑوں کچے مکانات اورہزاروں ایکڑ پر پھیلیں فصلیں پانی کی نذر ہو چکی ہیں-سندھ کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں ملک بھر میں اب تک تیس سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ صرف سندھ میں چوبیس افراد جاں بحق اور تیس سے زائد زخمی ہوئے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ حالیہ بارش سے تقریبا چالیس لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور بیشتر فصلیں نقد آور ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین طفراقبال قادر نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا حالیہ بارش سے سندھ کے گیارہ اضلاع متاثر ہوئے جب کہ بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کی تعداد نسبتًا کم ہے۔بارش سے کھڑی فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔ ظفر اقبال قادر نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتہ متاثرہ علاقوں کی دورہ کیا تھا اور اس وقت تک کے اندازے کے مطابق تقریبا ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں لیکن اس کے بعد مزید بارش ہوئی اس لئے نقصان بڑھ گیا ہے۔ نقصان کا حقیقی اندزاہ بارش ختم ہونے اور سیلاب زدہ علاقوں تک مکمل رسائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔ظفر اقبال قادر نے بتایا کہ سییلاب زدگان کے لئے سترہ ہزار خیمے پہلے ہی بھیجے جاچکے ہیں۔ گذشتہ روز مزید دس ہزار خیمے بھیجے گئے ہیں۔ این ڈی اے کے چیرمین نے سیلاب زدگان کی شکایات کی نفی کی اور اس کا سبب مجموعی قومی رویہ قرار دیا۔