3 نومبر 2015
وقت اشاعت: 10:20
پشاور :جیل عملے کی مبینہ زیادتی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
جیو نیوز - پشاور .......سنٹرل جیل پشاور میں کمسن بچے کے ساتھ جیل عملے کی مبینہ زیادتی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق قیدی عمر فاروق کا دعوی غلط نکلا ۔
نسنٹرل جیل پشاور کے قیدی عمر فاروق کی جانب سے جب یہ دعوی سامنے آیا کہ جیل میں کمسن قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور کی ہدایت پر مقامی پولیس نے بھی تحقیقات کا عمل شروع کیا جسکی سربراہی تھانہ شرقی کے افسر احسان اللہ کر رہے تھے۔
تحقیقات میں بات سامنے آئی کہ قیدی عمر فاروق کے دعوی میں کوئی سچائی نہیں اور نہ ہی یہ قیدی کمسن قیدیوں کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اسکی عمر 24 سال ہے جبکہ کم عمری کی حد 14 سال ہوتی ہے۔
پولیس کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ اس کیس کے منظر عام پہ آنے کے بعد جیل کے چار افسروں اور ایک قیدی کے خلاف مقدمات درج ہیں ۔جنکی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔