28 جولائی 2012
وقت اشاعت: 10:1
بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ
کوئٹہ… بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے نام سے کچھ عرصے پہلے تک اکثر لوگ واقف نہیں تھے لیکن اس کے مریضوں میں تیزی سے اضافے کے باعث اب یہ مرض نیا نہیں رہا۔ ہیپا ٹائٹس کی مختلف اقسام ہیں جن میں ہیپا ٹائی ٹس اے، بی اور سی عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق کوئٹہ میں ہر سو میں سے چار افراد ہیپاٹائی ٹس کا شکار ہیں۔ ماہر امراض معدہ و جگر ڈاکٹر معظم الدین کے مطابق اس بیماری کے شکار افراد کی شرح نصیرآباد بیلٹ، نوشکی، خاران سائڈ پر اور کوئٹہ میں ہے، کوئٹہ میں اس کی شرح 3.8فیصد ہے۔ اگر ہیپا ٹائٹس پھیلنے کی وجوہات پر قابو پا لیا جائے تو بڑی حد تک اس کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے، مگر صوبے میں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے اورنہ ہی مناسب خوراک۔ صحت عامہ کی سہولیات سے بھی لوگ محروم ہیں۔ مریض اور ان کے تیماردار بھی اسی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائی ٹس اے کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی یا خوراک کا استعمال ہے جبکہ ہیپاٹائی ٹس بی اور سی زیادہ تر بغیر اسکرین کیے گئے خون کی منتقلی سے پھیلتا ہے۔ مناسب طر یقے سے صاف نہ کیے جانے والے ڈینٹل اور طبی آلات، ہیپاٹائی ٹس میں مبتلا مریض کے ٹوتھ برش اور ریزرز کا استعمال وغیرہ بھی اسکے پھیلاوٴ کی دیگر وجوہات ہیں۔ ہیپا ٹائٹس کی ویکسین مہنگی ہونے اورسرکاری طور پر اس کی محدود پیمانے پر دستیابی کے باعث اس کا حصول ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔