30 جولائی 2012
وقت اشاعت: 8:9
خیبر پختون خوا:زچگی کیلئے پرائیوٹ اسپتال اور دائیوں پر اعتماد
پشاور…مریضوں پر توجہ کی کمی یا طبی سہولیات کا فقدان وجہ کچھ بھی ہو خیبر پختونخوا میں زچگی کے بیشتر کیسز سرکاری اسپتالوں کے بجائے پرائیویٹ اسپتالوں اور غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوامیں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 1لاکھ 89 ہزارخواتین نے زچگی کے ابتدائی ٹیسٹ سرکاری اسپتالوں میں کروائے۔ تاہم صرف 32 ہزارخواتین نے بچے جنم دینے کے لئے سرکاری اسپتالوں کا رخ کیا۔ سرکاری اسپتالوں پرعدم اعتمادمیں پشاورسرفہرست ہے۔جہاں 23ہزارمیں سے 1620خواتین زچگی کے لئے سرکاری اسپتالوں میں آئیں۔مردان میں زچگی کے 15700 سے زائدکیسزسامنے آئے جن میں صرف 3300بچوں کی پیدائش سرکاری اسپتالوں میں ہوئی۔ صوابی میں 11ہزار میں سے 1026خواتین بچوں کی پیدائش کے لئے سرکاری اسپتالوں میں آئیں۔جبکہ چارسدہ میں 10ہزارسے زائد خواتین نے زچگی کے ٹیسٹ سرکاری اسپتالوں میں کروائے تاہم صرف 2ہزارخواتین بچوں کی پیدائش کے لئے سرکاری اسپتالوں میں آئیں۔بنوں کی 7ہزارمیں سے صرف 500خواتین نے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کو جنم دیا۔ نوشہرہ میں 9200 خواتین نے زچگی کے ابتدائی ٹیسٹ کے لئے سرکاری اسپتالوں کارخ کیاجن میں سے صرف 900 بچے سرکاری اسپتالوں میں پیداہوئے۔ جبکہ کوہستان کی 3ہزار400میں سے صرف 37کیسزسرکاری اداروں میں آئے۔ محکمہ صحت کے مطابق زچگی کے لئے صرف سولہ فیصدکیسز سرکاری اسپتالوں جبکہ 84فیصدنجی اسپتالوں،کلینکس اورغیرتربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے کرائے گئے۔جوصحت کے سرکاری اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے۔