9 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 16:56
کراچی میں نیگلیریاوائرس سے اب تک20افراد موت کا شکار
کراچی …کراچی کے شہریوں کو آج کل نیگلیریا نامی ایک ایسی بیماری کا سامنا ہے جس کی تشخیص آسان لیکن علاج اب تک ناممکن ہے،پانی زندگی کیلئے ضروری ہے لیکن آج کل یہی پانی موت کا سبب بھی بن رہا ہے۔پانی میں پایا جانا والا فری لیونگ امییبا ناک کے ذریعے دماغ کے خلیوں پر اثرانداز ہو تا ہے جس کے نتیجے میں متاثرہ شخص تیز بخار،متلی،کومہ کاشکار ہوجاتا ہے جس کے بعدپانچ سے سات دن کے اندر مریض کی موت ہوجاتی ہے۔ٹھہرے ہوئے یا نل سے آنے والے تازہ پانی میں بھی یہ جرثومہ پایا جاسکتا ہے،جبکہ وضو کے دوران ناک میں زیادہ پانی لینے سے امیبیا دماغ میں داخل ہوسکتا ہے،جو خطرناک ہے۔اس بیماری کو نیگلیریا ایمیبک فالیری کہتے ہیں؟کنسلٹنٹ مائیکروبیالوجسٹ ،ڈاکٹر کامران داوٴد کے مطابق علاج کے لئے کوئی دوائی نہیں ملی،کراچی میں گزشتہ سال سے لے کر مئی 2012 تک 20 افراد اس جرثومے کا شکار ہوچکے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق ٹھہرے ہوئے پانی میں معیار کے مطابق کلورین شامل کی جائے تو نیگلیریا سے بچاوٴ ممکن ہے۔